صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 198 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 198

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۸ ۶۴ - کتاب المغازی فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔یہ واقعہ معمولی نہ تھا کہ فیصلہ نبوئی کے بعد اس کے لئے عذر تلاش کیا جائے۔اس سے تو آزادی مذہب سے متعلق اصولی تعلیم اسلام پر زد آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو لڑنے والوں سے جنگ کی اجازت دی ہے اور تبلیغ اسلامی میں نرمی برتنے کا ارشاد فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد متعدد ہمیں دعوتِ اسلام کی غرض سے قبائل عرب کی طرف روانہ فرمائیں اور ان کے امیروں کو صریح ہدایت کی گئی کہ اُن میں لڑائی سے بچا جائے۔کتب مغازی و تاریخ میں صراحت ہے کہ یہ وفود تو دعوت اسلام ہی کے لئے بھیجے گئے تھے۔سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد کا بیان اس بارہ میں گزر چکا ہے۔علامہ طبری نے بھی بایں الفاظ تصریح کی ہے: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صل الله بَعَثَ فِيمَا حَوْلَ مَكَّةَ السَّرَايَا تَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَأْمُرُهُمْ بِقِتَال - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے اطراف میں سرایا روانہ فرمائے تا وہ لوگوں کو صنم پرستی سے ہٹائیں اور اللہ عزوجل کی عبادت کے لئے انہیں بلائیں اور ان سرایا کو لڑائی کرنے کا قطعاً حکم نہیں دیا تھا۔امام بخاری کی مندرجہ بالا روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید دعوت اسلام ہی کے لئے بنو جذیمہ کی طرف بھیجے گئے تھے۔فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَام اور انہوں نے تعمیل حکم میں انہیں اسلام کی دعوت دی۔فَلَمْ يُحْسِنُوا أَن يَقُوْلُوْا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوْا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا۔وہ اچھی طرح یوں نہ کہہ سکے ہم اسلام لائے۔گھبراہٹ میں کہنے لگے : ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔اس فقرے کا تعلق سارے قبیلے سے نہیں تھا۔کیونکہ ان میں اکثر مسلمان ہو چکے تھے بلکہ صرف ایک خاص خاندان تھا جن کو اندیشہ تھا کہ ان سے انتقام لیا جائے گا، اس لئے وہ مسلح ہو کر لڑنے لگے۔لڑائی میں اپنی شکست دیکھ کر صبان سے اپنے اسلام کا اظہار کیا۔امام بخاری کی روایت میں غایت درجہ اختصار ہے اور انہوں نے وہی روایت قبول کی ہے جو اُن کے معیار صحت پر ہے۔مجرم نے اپنے لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ ہتھیار نہ ڈالو بلکہ مقابلہ کرو۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے سابقہ خون ریزی کی وجہ سے اندیشہ تھا۔ابن اسحاق کی پہلی روایت میں اس کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: وَيْلَكُمْ يَا بَنِي جَدِيمَةً إِنَّهُ خَالِدٌ وَاللَّهِ مَا بَعْدَ وَضْعِ السَّلَاحِ إِلَّا الْإِسَارُ وَمَا بَعْدَ الْإِسَارِ إِلَّا ضَرْبُ الْأَعْنَاقِ وَاللَّهِ لَا أَضَعُ سِلَاحِي ابدا۔اے بنو جذیمہ ! یادر ہے یہ خالد ہے۔ہتھیار ڈالنے کے بعد قید و بند ہو گا اور اس کے بعد گردن زنی۔اس کی قوم کے بعض لوگوں نے اُسے پکڑا اور کہا کہ تم خونریزی چاہتے ہو۔لوگ تو مسلمان ہو چکے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔جنگ ختم ہے اور امن ہے۔لوگ اسے سمجھاتے رہے اور اس سے ہتھیار لے لئے اور حضرت خالد کے کہنے پر باقی لوگوں نے بھی ہتھیار اُتار دیئے۔" اس بیان سے ظاہر ہے کہ محرم کے خدشات بلاوجہ نہ تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرائم قبیلے کے کو مسلمین کو دین اسلام کی تعلیم دینے کی غرض سے وہاں کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں۔جیسا کہ (تاريخ الطبرى سنة ثمان من الهجرة، مسير خالد بن الولید الی بنی جذيمة، جزء ۳ صفحه (۶۶) (السيرة النبوية لابن هشام، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۴۲۹)