صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 197 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 197

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۷ ۶۴ - کتاب المغازی ایک دوسرے سے بگڑے حتٰی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناراضگی کا علم ہوا تو آپ نے خالد سے فرمایا: میرے صحابہ سے متعلق ایسا خیال نہ کرو۔بخدا اگر اُحد جتنا سونا بھی تمہیں مل جاتا اور وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو بھی میرے صحابہ میں کسی شخص کا مقام نہیں پاسکتے جو انہیں صبح و شام ذکر الہی سے حاصل ہوتا ہے۔سے سیرت ابن ہشام میں ابن اسحاق کی یہ روایت بھی موجود ہے اور اس میں ذکر ہے کہ فاکہہ بن مغیرہ مخزومی، عوف بن عبد عوف زہر کی اور عفان بن ابی العاص یمن کی طرف تجارت کی غرض سے گئے اور واپسی پر ایک جذیمی شخص کا مال جو یمن میں مر گیا تھا، لائے تا اس کے وارثوں کو دیا جائے۔بنو جذیمہ کا ایک شخص خالد بن ہشام راستے میں ان سے ملا اور جب اسے جذیمی شخص کی موت کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ اس مال کا حق دار ہے۔انہوں نے دینے سے انکار کیا۔اس پر آپس میں لڑائی ہو گئی اور لڑائی میں عوف بن عبد عوف اور فاکہہ بن مغیرہ دونوں مارے گئے اور عفان بن ابی العاص اور ان کا بیٹا عثمان بچ نکلے اور انہوں نے فاکہہ بن مغیرہ اور عوف بن عبد عوف کا مال لے لیا اور عبد الرحمن بن عوف نے موقع پاکر خالد بن ہشام کو قتل کر کے اپنے باپ عوف کا انتقام لے لیا۔قریش بھی اس واقعہ سے سخت طیش میں تھے اور انہوں نے قبیلہ بنو جذیمہ پر حملہ کر کے اپنے مقتولین اور مالی نقصان کا بدلہ لینا چاہا تو بنو جذیمہ نے کہا کہ تمہارے آدمیوں کا قتل ایک انفرادی واقعہ ہے۔اس میں ہمارے ارادے کا دخل نہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔ہم مقتولین کا اور مالی نقصان کا معاوضہ دے دیں گے۔قریش نے ان کی معذرت و تجویز قبول کرلی جو سیرت ابن ہشام میں مروی ہے اور واقعہ کا یہ وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید محل اعتراض بنے۔اور صحابہ اسی وجہ سے حضرت خالد کے فیصلہ کے متعلق مطمئن نہ تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۲) بات یہ ہے کہ حضرت خالد کی طرف سے کسی قسم کا عذر بنایا نہیں جاسکتا کیونکہ وہ صرف دعوت اسلام کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔جس میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں تھا اور صحابہ کرام کی اکثریت نے انہیں نیک مشورہ دیا تھا جو قبول نہیں ہوا اور بنو سلیم کو راتوں رات اپنے قیدی قتل کرنے کا موقع مل گیا۔ابن اسحاق کی ایک روایت میں حضرت خالد بن ولید کا یہ عذر نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے میں لوگوں کا انکار دیکھ کر حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی کے مشورہ پر اُن سے جنگ کی۔اس بارے میں ابن اسحاق کے یہ الفاظ ہیں: وَقَدْ قَالَ بَعْضُ مَنْ يَعْذِرُ خَالِدًا إِنَّهُ قَالَ مَا قَاتَلْتُ حَتَّى أَمَرَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهُمِيُّ، وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُقَاتِلَهُمْ لا متناعِهِمْ مِنَ الْإِسْلَام - یہ عذر درست نہیں کیونکہ امیر خالد تھے نہ کہ عبد الله بن حذافہ سہمی۔خواہ یہ غلطی عمد ا ہوئی ہے یا تاویلاً بہر حال امیر جیش اس غلطی کا ذمہ دار تھا۔خصوصاً جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق کے بعد خالد پر شدید ناراضگی اور اُن سے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا تو ہمیں آپ کا (السيرة النبوية لابن هشام ، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۴۳۱، ۴۳۲) السيرة النبوية لابن هشام ، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحہ ۴۳۰)