صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 196 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 196

صحیح البخاری جلد ۹ 197 ۶۴ - کتاب المغازی امام باقر کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اُن سے فرمایا: أَخْرُجُ إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ وَاجْعَلْ اَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيْتَ۔ان لوگوں کے پاس جائیں اور جاہلیت کی بات اپنے قدموں میں مسل دیں۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ایک ایک کی دیت دی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۲) اس روایت سے ظاہر ہے کہ دیرینہ کینہ و بغض انتقام واقعہ قتال کے پیچھے کار فرما تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی مہم روانہ فرمائی اسے یہی ہدایت فرمائی کہ لڑائی میں جلدی نہ کی جائے۔آہستگی اور نرمی اختیار کی جائے اور مقابلہ کرنے سے قبل دعوتِ اسلام ہو۔اس کے احکام واضح کئے جائیں تا حجت پوری ہو اور جہاں سے اذان سنائی دے، وہاں حملہ نہ ہو۔مذکورہ بالا واقعہ میں خود قبیلہ بنو جذیمہ کی طرف سے اسلام قبول کرنے کا پیغام پہنچا تھا۔جس پر مذکورہ بالا مہم اس صراحت کے ساتھ روانہ کی گئی کہ اس سے مقصود دعوت اسلام ہے ، لڑائی نہیں۔چنانچہ طبقات ابن سعد میں ہے کہ جب حضرت خالد بن ولید بنو جذیمہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان سے دریافت کیا: مَا اَنْتُمْ؟ قَالُوا مُسْلِمُونَ قَدْ صَلَّيْنَا وَصَدَّقْنَا بِمُحَمَّدٍ وَبَنَيْنَا الْمَسَاجِدَ فِي سَاحَاتِنَا وَأَذَّنَّا فِيهَا قَالَ فَمَا بَالُ السَّلَاحِ عليكُمْ۔تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا: مسلمان۔ہم نماز پڑھتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانا ہے۔اپنے آنگنوں میں مسجدیں بنائی ہیں اور ان میں اذانیں دی ہیں۔حضرت خالد نے پوچھا: پھر یہ ہتھیار کیسے ؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور عربوں کی اور ایک قوم کے درمیان عداوت ہے۔ہمیں اندیشہ ہوا کہ تم لوگ وہی نہ ہو۔لے مذکورہ بالا وضاحت کے بعد ان کے ساتھ جنگ کسی صورت میں جائز نہیں تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ ململم کے اطراف میں قیام کے اثناء قدیمی عدادت کی چنگاری سلگی ہے۔جس سے ایک فریق کے ساتھ لڑائی کی صورت پیدا ہوئی ہے اور اس کے بعد جنگجو افراد کی طرف سے صبأنا سے اظہار اسلام کرنے پر اُن کی جان بخشی نہیں ہوئی اور حضرت خالد بن ولید امیر جیش ہونے کی وجہ سے زیر عتاب آئے۔ابن ہشام نے حضرت خالد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے اختلاف اور آپس کی ناراضگی کا بھی ذکر کیا ہے جو اس موقع پر دونوں کے درمیان ہوئی۔حضرت عبد الرحمن نے اُن سے کہا: عَمِلْتَ بِأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْإِسْلَام - آپ نے اسلام میں جاہلیت والی بات کی ہے تو حضرت خالد نے انہیں جواب دیا: إِنَّمَا ثَأَرْتَ بِأَيِّيك- تو نے اپنے باپ کا انتقام لیا ہے۔حضرت عبد الرحمن نے جواب دیا: یہ درست نہیں کیونکہ میں اپنے باپ کے قاتل کو مار کر بدلہ لے چکا ہوں۔وَلَكِنَّكَ ثَأَرْتَ بِعَتِكَ الْفَاكِهِ بْن الْمُغِيرَةِ، حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمَا شَرٌّ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَهْلًايَا خَالِدُ دَعْ عَنْكَ أَصْحَابِي، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ لَكَ أُحْدٌ ذَهَبًا ثُمَّ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِي وَلَا رَوْحَتَهُ۔۔لیکن آپ نے اپنے چا فاکہہ بن مغیرہ کا بدلہ لیا ہے۔اس جھگڑے سے دونوں الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ، سرية خالد بن الوليد الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۱۱۲) (السيرة النبوية لابن هشام، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بنى جذيمة، جزء ۲ صفحه ۴۳۱)