صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 195
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۵ ۶۴ - کتاب المغازی رة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوئی واضح ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بیان مندرجہ روایت نمبر ۴۳۳۹ سے بھی ظاہر ہے کہ اسیروں کے قتل کرنے کے متعلق حضرت خالد بن ولید کا حکم نہ تھا بلکہ ایک فتویٰ تھا جس سے صحابہ کرام کی اکثریت نے اتفاق نہیں کیا۔ اگر حکم ہوتا تو سب اس کو مانتے اور کوئی اس سے اختلاف نہ کرتا۔ لیکن فتویٰ دینے میں حضرت خالد سے بعض وجوہ سے غلطی ہوئی اور آنحضرت صلی ا اللہ علیہ وسلم کو خالد کی اس مذکورہ غلطی سے شدید صدمہ ہوا اور آپؐ نے اس کی تلافی کے لئے حضرت علی کو بھیجا جنہوں نے جاکر ایک ایک بچے کا خون بہا ادا کیا۔ یہاں تک کہ جن کے کتے بھی مارے گئے تھے ان کے کتوں کا بھی خون بہا دیا گیا اور علاوہ واجبی دیت کے ان کو مزید رقم بھی دی۔ امام باقر نے بھی حضرت علی کے ذریعہ تلافی نقصان کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۷۲) فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ کہ حضرت خالد لڑائی میں انہیں قتل اور قید کرنے لگے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہتھیار ڈالنے پر بھی انہیں قتل کرنے لگے۔ ابن سعد نے اس تعلق میں جو روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک روایت بحوالہ ابن اسحاق حضرت ابن ابی حدرد اسلمی کی ہے کہ وہ بھی اس رسالہ میں موجود تھے۔ ابن سعد کے بیان سے ظاہر ہے کہ بعض نے لڑائی کی اور یہ ذکر بھی ہے کہ بنو جذیمہ کو مسلح دیکھ کر حضرت خالد نے ان سے دریافت کیا: ما بالی السلاح عَلَيْكُمْ ؟ کیا بات ہے تم ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہو ؟ فَقَالُوا إِن بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ عَدَوَاةً فَخِفْنَا أَنْ تَكُونُوا هُمْ فَأَخَذْنَا الصَّلاحَ - انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اور بعض عرب قبائل کے درمیان پرانی دشمنی ہے۔ سو ہم اس بات سے ڈرے کہ تم وہی لوگ ہو، اس لئے ہم ہتھیار بند ہو گئے۔ حضرت خالد نے انہیں قید کرنے کے لئے حکم دیا۔ ان کے بازو جکڑے گئے اور انہیں اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ کے امام ابن حجر نے یہ حوالہ نقل کر کے لکھا ہے : فَيُجْمَعُ بِأَنَّهُمْ أَعْطُوا بِأَيْدِيهِمْ بَعْدَ الْمُحَارَبَةِ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۲) لڑنے والوں نے لڑائی کے بعد اپنے آپ کو سپرد کیا تھا۔ امام بخاری کی روایت میں اختصار ہے اور کتب مغازی کی روایات میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں، ان میں بھی واضح ارتباط نہیں۔ البتہ ان سے مجملاً معلوم ہوتا ہے کہ جو جھڑپ اس تبلیغی مہم کے دوران ہوئی ہے اس میں زمانہ جاہلیت کی کسی خونریزی کا دخل ضرور تھا۔ محض لفظ صَبَأْنا سے متعلق اختلاف رائے پر بعض قیدیوں کا قتل کئے جانا بعید از عقل ہے۔ خصوصاً جب وصاً جب مهاجرین و انصار بر ملا فتوی مذکوره کے خلاف تھے۔ خطابی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فقرہ سے کہ اللَّهُمْ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ظاہر ہے کہ آپ نے فیصلہ میں حضرت خالد کی جلد بازی اور لفظ صَبَأْنَا سے متعلق عدم تحقیق کو بُرا منایا۔ حضرت خالد کا فرض تھا کہ وہ پوری طرح معلوم کر لیتے کہ لفظ صَبَأْنَا کہنے والوں کی اس سے کیا مراد ہے۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، مسیر خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحہ ۴۳۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، سرية خالد بن الوليد الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۱۱۲) بالا