صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 194
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۴ ۶۴ - کتاب المغازی پاس بھیجا جو مکہ کے قریب میملم کے اطراف میں آباد تھے اور انہیں وہاں لڑنے کے لئے نہیں بلکہ دعوتِ اسلام کی غرض سے بھیجا تھا۔یہ قبیلہ اسلام کی طرف راغب تھا۔اس مہم کا نام یوم الغمیصاء بھی ہے۔۔۔، حضرت عبد اللہ بن عمر جو روایت نمبر ۴۳۳۹ کے راوی ہیں۔اس مہم میں موجود تھے۔ان کے بیان میں اختصار ہے۔ابن اسحاق نے واقعہ کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو جذیمہ کے ایک مخصوص حصے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اکثر مسلمان ہو چکے تھے۔منکرین اسلام مسلح ہو کر لڑنے لگے۔جس کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید نے اُن کا مقابلہ کیا اور شکست ہونے پر وہ قید کئے گئے۔ان میں سے بعض اپنے آپ کو نرغے میں دیکھ کر صبأنا صبانا کے الفاظ سے اپنے اسلام کا اظہار کرنے لگے۔صبانا کے معنی ہیں: ہم صابی ہو گئے یعنی اپنادین تبدیل کر لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں لفظ صابی سے طنز آ پکارے جاتے تھے اور لوگوں کو اس لفظ سے نفرت دلائی جاتی تھی۔جیسے ہمیں قادیانی کہا جاتا ہے اور اگر کوئی پیغام احمدیت کو قبول کرلے تو اسے حقارت سے کہتے ہیں قادیانی ہو گیا ہے۔یہی طنز و تحقیر کا مفہوم لفظ صبانا میں پایا جاتا ہے۔فَلَمْ يُحْسِنُوا أَن يَقُولُوا أَسْلَمْنَا سے یہ مراد ہے کہ لڑنے والوں نے واضح طور پر اور انشراح سے اسلام قبول کرنے کا اظہار نہیں کیا تھا۔بلکہ وہ صبأنا کا لفظ استعمال کرنے لگے۔اس فقرے سے وہ اپنے آپ کو لڑائی میں قتل سے بچا نہ سکے۔حضرت عبد اللہ بن عمر کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت خالد بن ولید کے پیغام پر اپنے قیدی قتل نہیں کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔جس پر آپ نے ہاتھ اُٹھائے اور حضرت خالد بن ولید سے بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ابن اسحاق اور ابن سعد کے بیان میں ہے کہ مجاہدین میں بنو سلیم اور مدلج قبیلے کے جنگجو بھی شامل تھے جو بنو جذیمہ کی طرح بنو کنانہ کی ایک شاخ تھے اور بنو جذیمہ کو اس سے پہلے کسی جنگ میں نقصان پہنچا چکے تھے۔جب بنو جذیمہ نے بنو سلیم و مدلج کو مجاہدین اسلام کے لشکر کے ساتھ دیکھا تو وہ ان سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلح ہو گئے۔حضرت خالد نے اُن سے کہا کہ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں، یہ لڑائی کس لئے ؟ ہتھیار ڈال دو۔جحدم نامی سردار نے انہیں مشورہ دیا کہ ہتھیار نہ ڈالنا، ورنہ قتل و قید ہے۔قوم کے بعض لوگوں نے اُسے روکا اور کہا کہ خونریزی کیوں کراتے ہو۔لوگ تو مسلمان ہو چکے ہیں۔ابن ہشام کی روایات سے پایا جاتا ہے کہ ان قبائل بنی کنانہ کے درمیان بعض خونریزیوں کے انتقام کا سوال بھی تھا جس کی وجہ سے بعض لڑے اور مارے اور قید کئے گئے۔معلوم ہوتا ہے کہ بنو سلیم کے جنگجو لوگوں نے حضرت خالد بن ولیڈ کے فتویٰ پر اپنے بعض قیدی کسی دیرینہ انتقام میں قتل کر دیئے اور ان کے اظہار اسلام کو نفاق پر محمول کیا لیکن مہاجرین و انصار نے خالد کا یہ فتویٰ قبول نہیں کیا اور اپنے قید کی مذکورہ بالا الفاظ سے اظہارِ اسلام پر آزاد کر دیئے۔تفصیل کے لئے السيرة النبوية لابن هشام ، مسیر خالد بن الولید بعد الفتح الى بنى جذيمة، جزء ۲ صفحه ۱۳۴۲۸ ۴۳۱ (الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازى رسول الله ، سرية خالد بن الوليد الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۱۱۲) (السيرة النبوية لابن هشام ، مسير خالد بن الوليد بعد الفتح الى بني جذيمة، جزء ۲ صفحه ۴۲۹،۴۲۸)