صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 193 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 193

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۳ ۶۴ - کتاب المغازی فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا بن عمرم سے روایت کی۔انہوں نے کہا نبی صلی الی یوم أَنْ يَقُوْلُوْا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوْا يَقُوْلُوْنَ نے حضرت خالد بن ولید کو بنی جذیمہ کی طرف صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ بھیجا اور انہوں نے اُن کو اسلام کی دعوت دی۔مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ وَدَفَعَ إِلَى كُلِ رَجُلٍ انہوں نے اچھی طرح نہ کہا کہ ہم نے اسلام مِنَّا أَسِيْرَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ قبول کیا اور کہنے لگے : ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيْرَهُ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔اس پر حضرت خالد نے ان کے آدمی قتل کرنے اور قید کرنے شروع فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيْرِي وَلَا يَقْتُلُ کر دیئے اور ہم میں سے ہر ایک شخص کو اُس کا اپنا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيْرَهُ حَتَّى قَدِمْنَا ہی قیدی دے دیا۔ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے فَذَكَرْنَاهُ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ قیدی کو قتل کر دے۔میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ۔ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔یہاں تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم طرفه: ۷۱۸۹۔کے پاس پہنچے تو ہم نے آپ سے سارا واقعہ ذکر کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اُٹھائے اور آپ نے دو بار یہ فرمایا: اے اللہ ! میں تیرے حضور بری ہوں، اس فعل سے جو خالد نے کیا۔شرح : بَعْثُ النَّبِيِّ مَّا خَالِدَ بْنِ الْوَلِيدِ إِلى بينى جذيمة : طبقات ابن سعد اور سیرت ابن ہشام دونوں میں معنونہ مہم کا ذکر ہے کہ فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اطراف میں کچھ دستے بھیجے تا کہ متعدد قبائل کی طرف سے ان کی اسلام کے لئے رغبت معلوم کی جائے۔چنانچہ آپ کا حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجوانا بھی اسی غرض سے تھا۔طبقات ابن سعد میں اس امر کی ان الفاظ سے صراحت ہے کہ بَعَثَهُ إِلَى بَنِي جَدِيمَة دَاعِيَّا إِلَى الْإِسْلَامِ وَلَهُ يَبْعَفَهُ مُقَاتِلا۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تین سو مہاجرین و انصار کے ساتھ حضرت خالد بن ولید کو شوال ۸ھ میں بنو کنانہ کے قبیلہ بنو جذیمہ کے