صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 190 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 190

صحیح البخاری جلد ۹ 19+ ۶۴ - کتاب المغازی میرے نزدیک یہ وعدہ ہائے فتح و نصرت عظیم اور مَغَائِمَ كَثِيرَةً فتح مکہ کے ایام میں پورے ہوئے۔ان موعودہ کامرانیوں اور غنیمتوں کا تعلق غزوہ خیبر سے نہیں۔جیسا کہ تفصیل سے بتایا جا چکا ہے۔کتب مغازی میں مؤلفتہ القلوب کے نام اور جس قدر اموال انہیں دیئے گئے اس کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔اس تفصیل سے اموال غنیمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔طبقات ابن سعد اور سیرت ابن ہشام میں جو اعداد و شمار منقول ہیں، ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔ابو سفیان بن حرب مع اولاد ۳۰۰ اونٹ ۱۲۰ اوقیہ چاندی حکیم بن حترام۔۲۰۰ اونٹ نصر بن حارث بن کلده ۱۰۰ اونٹ ۴ مالک بن عوف ۱۰۰ اونٹ ۵ صفوان بن امیه۔۔۱۰۰ اونٹ۔قیس بن عدی ۱۰۰ اونٹ ۷ سہیل بن عمرو۔۱۰۰ اونٹ حويطب بن عبد العزی۔۱۰۰ اونٹ أقرع بن حابس ۱۰۰ اونٹ۔١٠ عيينة بن حصن ۱۰۰ اونٹ ان میں سے اکثر عمائدین مکہ ہیں اور اپنے اپنے خاندان کے سر براہ۔ان کے علاوہ بہت سے لوگوں کو پچاس اونٹ دیئے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں ہوازن اور ثقیف کا انتظار فرمایا کہ وہ آئیں تا اُن کے مال اور قیدی انہیں واپس دیئے جائیں۔مگر انہوں نے آنے میں تاخیر کر دی اور جب وہ آئے تو اموالِ غنیمت تقسیم ہو چکے تھے اور جیسا کہ معتبر روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے اپنا حصہ اور اپنے خاندان بنی مطلب کے حصص انہیں واپس کر دیئے اور غلام لونڈیوں کے واپس کئے جانے کی بھی سفارش فرمائی۔(السيرة النبوية لابن هشام ، أمر أموال هوازن وسباياها، عطاء المؤلفة قلوبهم، جزء ۲ صفحه ۱۱۶) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الی حنین، جزء ۲ صفحه ۱۱۶)