صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 189 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 189

صحیح البخاری جلد ؟ ۱۸۹ ۶۴ - کتاب المغازی جائے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمائی۔عقیدہ اسلام و عقیدہ شرک ضدین ہیں اور آخر وہ یہ حقیقت سمجھ گئے اور خلوص نیت سے اسلام میں داخل ہوئے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ اُن کا یہ بت توڑنے کے لئے بھیجے گئے۔لے غزوات اسلامیہ سے قتل و غارت مقصود نہ تھی بلکہ قوم کی اصلاح و ہدایت اصل غرض تھی جو پوری ہوئی۔ابن سعد کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : وَنَادَى مُنَادِى رَسُولِ اللهِ لا أَيُّمَا عَبْدُ نَزَلَ مِنَ الْحِمْنِ وَخَرَجَ الَيْنَا فَهُوَ حُر کے یعنی جو شخص قلعے سے نیچے اتر کر ہمارے پاس آجائے گا تو وہ آزاد ہو گا۔سیرت ابن ہشام میں ہے کہ کچھ غلام قلعے سے نیچے اترے اور اسلام میں داخل ہوئے۔روایت نمبر ۴۳۳۰، ۴۳۳۱ سے مجاہدین انصار و مہاجرین کے اخلاص کا نمونہ پیش کیا گیا ہے کہ وہ دنیاوی طمع و لالچ سے خالی الذہن ہو چکے تھے۔البتہ بعض بدوی عرب تربیت کے محتاج تھے اور بعض نوجوان افراد کا تزکیہ نفس نا تمام تھا۔ایسے لوگوں کی اصلاح کی گئی۔اسی تسلسل میں روایات نمبر ۴۳۳۳، ۴۳۳۴ کا مضمون ہے کہ مجاہدین غزوات فتح مکہ ، اوطاس و طائف اموالِ غنیمت سے محروم رکھے گئے، تا اُن کا جہاد خالص فی سبیل اللہ ہو اور اُن میں دنیاوی طمع ولالچ کا شائبہ تک باقی نہ رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس محسن بلاغت سے انصار کی دلجوئی فرمائی، وہ روایت نمبر ۴۳۳۰ تا ۴۳۳۴ سے ظاہر وباہر ہے۔آپ کے کلام بلیغ سے انصار سمجھ گئے کہ جنہیں غنیمت سے دیا گیا ہے وہ کمزور لوگ ہیں اور تالیف قلب کے محتاج اور جنہیں نہیں دیا گیا، ان کی شان بہت بلند ہے۔کتب مغازی میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہیں اموالِ غنیمت میں سے مجاہدین کے مقررہ حصص دیئے جانے کے بعد مال تقسیم کیا گیا تھا۔دستور کی رو سے فی کس چار اونٹ اور چالیس بکریاں دی گئیں۔اسپ (گھوڑا) سوار کا حصہ تین گنا تھا۔اس لئے ہر سوار کو بارہ اونٹ اور ایک سو میں بکریاں ملیں۔کے دس ہزار کی فوج تھی، اس سے اموال غنیمت کا اندازہ ہو سکتا ہے جو غزوہ ہوازن و او طاس میں حاصل ہوئے۔سورۃ الفتح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بایں الفاظ وعده تها : إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتحا مبینان (الفتح:۲) میں نے تمہیں ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے۔وَ يَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزان (الفتح: ۴) اور اللہ تیری شاندار مدد کرے گا۔وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} (الفتح : ۵) اور اللہ بڑے علم والا اور حکمت والا ہے۔لا ہے۔وَ أَثَابَهُمْ فَتَحَا قَرِيبان (الفتح: ۱۹) اور ان کو ایک قریب میں آنے والی فتح بخشی وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِیمان (الفتح: ۲۰) اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِم كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا (الفتح: ۲۱) اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے۔(السيرة النبوية لابن هشام ، أَمْرُ وَفْدِ ثَقِيفٍ وَإِسْلَامُها ، جزء ۲ صفحه ۵۳۹، ۵۴۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ، غزوة رسول الله ﷺ الطائف، جزء ۲ صفحہ ۱۲۰) ( السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة الطائف، عتقاء ثقیف، جزء ۲ صفحه ۴۸۵) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الى حنين، جزء ۲ صفحه ۱۱۶)