صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 191
صحیح البخاری جلد ۹ 191 بَاب ٥٧ : السَّرِيَّةُ الَّتِي قِبَلَ نَجْدٍ اس لشکر کا بیان جو مسجد کی طرف گیا ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٣٨ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۴۳۳۸ ابو نعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید) حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَّافِعِ عَنِ نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قِبَلَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صل الم نے مسجد کی طرف ایک دستہ فوج بھیجا اور میں بھی اس میں شامل تھا۔ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا اور ہم تیرہ تیرہ اونٹ لے کر آئے۔نَجْدٍ فَكُنْتُ فِيْهَا فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيْرًا وَنُزِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا فَرَجَعْنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيْرًا۔طرفه: ٣١٣٤۔تشریح: السَّرِيَّةُ الَّتِي قِبَلَ نَجْدٍ : سریہ کی اصطلاح ایسے دستہ فوج پر اطلاق پاتی ہے جو رات کو سفر کرنے والا ہو اور اس کا مقصد پوشیدہ ہو۔اس میں پانچ صد تک شامل افراد کی تعداد ہو سکتی ہے۔اگر پانچ صد سے زائد ہوا تو عربی میں اسے منتر کہتے ہیں اور اگر آٹھ صد سے اوپر شامل ہونے والوں کی تعداد ہو تو اسے جیش کہتے ہیں۔۱۵۰۰ اور ۸۰۰ کے درمیان شامل ہونے والے افراد ہوں تو اس فوج کا نام هَبطة بھی ہے۔اگر فوج میں چار ہزار سے زائد افراد ہوں تو اس کو جحفل کا نام دیا جاتا ہے اور اگر اس سے زیادہ سپاہی ہوں تو وہ فوج خمیس کہلاتی ہے۔سَرية کا ایک حصہ بغث کہلاتا ہے۔اس میں دس کی نفری ہوتی ہے۔دس سے زیادہ دستہ فوج کا نام حفيرة، چالیس کا غضبة، تین سو تک کا مقتب اور اس سے زیادہ عمرہ ہے اور اگر فوجیں الگ حصوں میں نہ ہوں بلکہ اکٹھی ہوں تو اس کو گنیة کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۰) امام بخاری نے عنوانِ باب میں سریہ کی اصطلاح اختیار کی ہے اور روایت زیر باب میں نہ تعداد کا ذکر ہے اور نہ امیر کا اور نہ غرض کا۔نجد کی طرف جو دستہ فوج بھیجا گیا تھا، اس میں حضرت عبد اللہ بن عمر شریک تھے۔جیسا کہ ان کا اپنا بیان ہے۔یہ روایت کتاب فرض الخمس میں بھی گزر چکی ہے۔(روایت نمبر ۳۱۳۴) مسجد کی سمت ایک مہم غزوہ قر قرۃ الکدر ہے۔اس روایت کا تعلق غزوہ قرقرۃ الکدر سے سمجھنا درست نہیں۔کیونکہ غزوۃ قرقرۃ الکدر میں آنحضرت سما الم خود تشریف لے گئے تھے اور علمبر دار حضرت علی تھے۔یہ دوسری ہجری کے آخر میں ہوا تھا۔اور الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول اللہ ﷺ غزوة قرقرة الكدر، جزء ۲ صفحہ ۲۳)