صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 188
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۸۸ ۶۴ - کتاب المغازی نے دلائل میں بسند بشر بن موسیٰ ان الفاظ میں اسے نقل کیا ہے : عَنِ الْحُمَيْدِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُ و سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَعْمَى يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ ۔ یعنی اس کا سماع ثابت ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۷) چوتھی روایت ( نمبر ۴۳۲۶، ۴۳۲۷) کا تعلق اس اعلان سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ طائف کے دوران فرمایا تھا کہ جو غلام اسلام قبول کرلے گا وہ آزاد قرار دیا جائے گا۔ اس اعلان نے منجنیق اور دبابہ سے بھی زیادہ اثر کیا۔ غلاموں کو اپنی آزادی زیادہ پیاری تھی۔ قلعہ سے اور ادھر اُدھر سے آکر وہ اپنے اسلام کا اظہار کرنے لگے اور غلامی کی لعنت سے چھٹکارا پایا۔ ایک وقت میں تئیس غلاموں کے قلعے سے اُترنے کا ذکر ہے، جن میں سے حضرت ابو بکرہ بھی تھے۔ ان کا نام نفیح بن حارث ہے جو حارث بن کلدہ ثقفی کے غلام تھے۔ یہ ایک غراری کے ذریعہ قلعہ سے نیچے اترے تھے اور کنیت ابو بکرہ (چرخی والے) سے مشہور ہوئے۔ بکرہ کے معنی غراری کے ہیں۔ وہ حديث مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ( روایت نمبر ۴۳۲۷) کے راوی ہیں جو ابو عثمان نہدی نے ان سے اور حضرت سعد دونوں سے سنی۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۸،۵۷) اس روایت میں وَقَالَ هِشَامُ ۔۔۔ ہشام بن یوسف صنعانی کا قول مسند عبد الرزاق میں بسند معمر مروی ہے۔ اس سے ان لوگوں کا رڈ مقصود ہے جن کے نزدیک حضرت ابو با ابو بکرہ طائف کے قلعہ سے نازل ہونے والے اکیلے شخص تھے۔ موسیٰ بن عقبہ سے بھی مروی ہے کہ صرف وہی قلعہ کے اندر سے فصیل پر چڑھے اور پھر غراری کے ذریعہ سے باہر کی طرف لٹک کر اُترے تھے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۸) روایت مذکورہ کے آخر میں مذکورہ حوالوں سے اس کی صحت ثابت کرنا مقصود ہے کہ قلعہ بند لوگوں میں سے فصیل پھاند کر آنا اور اسلام میں داخل ہونا صحیح ہے۔ اس سے کتب مغازی کی روایات درست ثابت ہوتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ طائف کے موقع پر اعلان فرمایا کہ غلام اسلام میں داخل ہونے سے آزاد قرار دیا جائے گا۔ ہے اور یہ فقہ اسلامی کا مشہور مسئلہ ہے۔ طائف کا محاصرہ اس لئے نہیں اُٹھایا گیا تھا کہ وہ ان مجاہدین کے لئے ناقابل تسخیر تھا بلکہ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن و بنو ثقیف کے ایمان لانے اور اصلاح پذیر ہونے کی نسبت یقین تھا۔ ابن ہشام نے لکھا ہے کہ مالک بن عوف نصری نے بھی مکہ میں آکر بیعت کی۔ آپ نے اسے اپنے قبیلہ کے علاوہ قبائل شمالہ، سلمہ اور فہم کا بھی عامل (کارکن (اعلیٰ) مقرر فرمایا۔ بنو ثقیف اس وقت تک اسلام قبول کرنے میں متردد تھے۔ جب بنو اسد مسلمان ہوئے تو انہوں نے بھی اپنا وفد بھیج کر امان طلب کی اور اس شرط پر اسلام قبول کرنے کا وعدہ کیا کہ ان کا بت لات تین سال کے لئے نہ توڑا ا۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الولاء ، باب من ادعى الى غير أبيه، جزء ۹ صفحه (۴۹) المغازى للمواقدى، شأن غزوة الطائف، جزء ۳ صفحه ۹۳۱) السيرة النبوية لابن هشام، ذکر غزوة الطائف، اسلام مالك بن عوف النصري، جزء ۲ صفحه (۴۹۱)