صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 187
صحیح البخاری جلده ۱۸۷ ۶۴ - کتاب المغازی بتایا جا چکا ہے کہ بنو قینقاع میں سے صرف فتنہ انگیز اور لڑنے والے جلا وطن کئے گئے تھے بلکہ بعد میں جلا وطنوں میں سے بعض خاندانوں کو واپس آنے اور اپنی جگہوں میں بسنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔(تفصیل کے لیے دیکھئے تشریح باب غزوہ خیبر ) طائف کے محاصرے میں بھی منجنیق، دبا ہے، عرادے وغیرہ قلعہ شکن آلات استعمال کئے گئے تھے۔طائف کے جنوب میں مجرش نامی ایک مقام تھا جہاں یہ جنگی آلات بنائے جاتے تھے۔یہ مقام بھی طائف کی طرح فصیل دار مستحکم شہر تھا۔وہ یہودیوں کی بستی تھی۔وہاں سے قلعہ شکن آلات مہیا کئے جاتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فصیل کے ارد گرد کانٹے بھی بکھیر دیئے گئے تھے۔ان کے باغات کے بعض حصے جلائے گئے جس سے وہ ڈرے اور نرمی کی طرف مائل ہوئے۔کے محاصرہ تقریبا تین ہفتے رہا لیکن اس سے شہر کے باشندوں کو نقصان کم پہنچا۔کھانے پینے کے ذخائر اُن کے پاس کافی تھے اور وہ دبابے وغیرہ آلات کو بے کار کرنے اور انہیں فصیل تک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب رہے اور بنو ثقیف نے پوری شدت سے لڑائی کی۔کتب مغازی میں مذکور ہے کہ عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ حنین کی جنگ میں شریک نہیں تھے اور (قبول اسلام سے قبل ) طائف کے محاصرے میں دونوں جرش میں مذکورہ بالا آلات جنگ کی صناعت سیکھنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔سے اور سیرت ابن ہشام میں ان کی ایک تدبیر کا ذکر کیا گیا ہے کہ فولادی میخوں کو آگ میں گرم کرتے اور دہکتی ہوئی میخیں دبابوں پر پھینکی جاتیں جس سے ان پر منڈھے ہوئے چمڑے جل جاتے اور دبابے آگ لگنے سے بیکار ہو جاتے۔محصور و محفوظ فوج کا نقصان کم ہوا اور اس طرح محاصرے نے طول کھینچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو محاصرہ ترک کر دینے کا اشارہ فرمایا۔مگر انہوں نے چاہا کہ محاصرہ جاری رہے یہاں تک کہ شہر فتح ہو جائے۔اس کا ذکر باب ہذا کی دوسری روایت (نمبر ۴۳۲۵) میں ہے۔باقی تفصیل محاصرہ کتب مغازی میں ہے۔امام بخاری نے غزوہ طائف کے تعلق میں صرف چار مستند روایتیں نقل کی ہیں۔ان میں سے پہلی روایت (نمبر ۴۳۲۴) جو ہشام سے مروی ہے، انہی سے ایک اور سند سے بھی نقل کی گئی ہے، جس میں صراحت ہے کہ ہیت نامی مخنث نے دوران محاصرہ بنت غیلان کا ذکر کیا۔پہلی سند کے الفاظ میں طائف کے محاصرہ کا ذکر نہیں۔باب کی دوسری روایت (نمبر ۴۳۲۵) میں محاصرہ اٹھا لینے اور صحابہ کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔اس روایت کے آخر میں حمیدی کا قول اس غرض سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ روایت جو معنون ہے، اسے سفیان بن عیینہ نے حَدَّثَنَا سے بھی روایت کیا ہے۔ابونعیم تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع أجلاء اليهود عن البلاد الحجازية ، صفحہ ١٧٦) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازى رسول الله ﷺ غزوة رسول الله ﷺ الطائف، جزء ۲ صفحہ ۱۲۰) (المغازى للواقدي، شأن غزوة الطائف، جزء ۳ صفحه ۹۲۷) الطبقات الكبرى لابن سعد ، ذكر وفادات العرب، وفد ثقیف، جزء اول صفحه ۲۳۷) (المغازى للواقدى ، شأن غزوة الطائف، جزء۳ صفحه ۹۲۴) (السيرة النبوية لابن هشام ، ذکر غزوة الطائف، يوم الشدخة، جزء ۲ صفحه ۴۸۳)