صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 186
صحیح البخاری جلد ۹ JAY ۶۴ - کتاب المغازی هِشَامٌ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَأَنْتَ شَاهِدٌ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ذَلِكَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيْبُ عَنْهُ۔ایک پہاڑی راستے پر چلیں تو میں خود انصار کا راستہ اختیار کروں گا۔ہشام نے یہ سن کر کہا: ابو حمزہ ! آپ بھی اس وقت موجود تھے ؟ انہوں نے کہا: اور میں کہاں آپ سے غائب ہو گیا تھا۔اطرافه: ۳۱٤٦ ، ۳۱۴۷، ۳۵۲۸، ۳۷۷۸، ۳۷۹۳، ٠٥٨٦٠ ٦٧٦٢، ٧٤٤١۔،٤ ، ٤٣٣٣، ٤٣٣٤۳۳۲ ،٤٣٣١ تشریح : غَزْوَةُ الطَّائِف: غزوہ طائف بھی غزوہ حنین کے تسلسل ہی میں ہوا۔مالک بن عوف نضری : سردار ہوازن حسین سے بھاگ کر علاقہ طائف میں آیا اور یہاں قلعہ میں پناہ گزین ہو گیا۔اس کا اپنا قلعہ مقام لیہ میں تھا جو طائف شہر سے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلہ پر تھا۔اس نام کی بستی اور وادی اب بھی ہے۔یہ علاقہ زرخیز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن عوف کے تعاقب میں رسالہ بھیجا تا ہوازن وہاں جا کر قلعہ بند نہ ہوسکیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵) عنوانِ باب میں حضرت موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے غزوہ طائف کی تاریخ شوال ۸ ہجری بیان کی گئی ہے جو جمہور اہل مغازی کے نزدیک مسلم ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف ذوالقعدہ کے شروع میں پہنچے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵) عنوانِ باب سے یہ قول رڈ کرنا مقصود ہے۔علاقہ طائف تین ہزار فٹ کی بلندی پر ایک سطح مرتفع ہے۔مکہ مکرمہ سے وہاں جانے کے لئے تین راستے ہیں۔قریب ترین راستہ عرفات سے جبل کرا کے دامن میں آتا ہے اور یہاں سے ایک پہاڑی کی چڑھائی ہے اور پھر طائف ہے۔یہ راستہ تقریباً ساٹھ میل ہے۔دوسرا راستہ جعرانہ سے گزرتا ہے۔تیسرا راستہ وادی نعمان اور سیلی سے جاتا ہے جو تقریبا پچھتر میل ہے۔طائف کا علاقہ بہت زرخیز اور انگور و انار وغیرہ کے باغات کی وجہ سے مشہور تھا۔وادی ونج سے سیراب ہوتا تھا، جو برسات میں بہتی اور سارے علاقہ کو شاداب کرتی تھی۔اس کے علاوہ پانی کے چشمے بھی جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ان سے بذریعہ کاریز (زمین دوز نہر ) باغوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔طائف کا شہر عہد نبوی ملا یہ کہ میں ایک فصیل کے ذریعہ محفوظ تھا۔طائف کے معنی ہیں گھیرا۔قلعہ بند شہر کو بھی طائف کہتے تھے اور باقی آبادی و بج کہلاتی تھی۔طائف میں لات و عزیٰ کے بت خانے تھے اور مکہ کے بعد یہ شہر دوسرے درجہ پر شرک و بت پرستی کا مرکز تھا اور مدینہ کی طرح قبیلہ وار محلوں میں تقسیم تھا۔بنو ثقیف جو قبائل ہوازن تھے ، اس علاقے کے مالک و حکمران سمجھے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ خیبر میں قلعہ شکن آلات سے واسطہ پڑا اور آپ نے ان کی صنعت کاری سیکھنے کے لئے بعض مجاہدین کو نامزد فرمایا۔بنو قینقاع وغیرہ یہودی اس فن سے واقف تھے جو مدینہ وغیرہ میں آباد تھے۔یہ