صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 184 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 184

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۸۴ ۶۴ - کتاب المغازی لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنِ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا أَعْطَى الْأَقْرَعَ جب حسنین کا واقعہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ کچھ لوگوں کو مقدم کیا۔اقرع بن حابس) کو ذَلِكَ وَأَعْطَى نَاسًا فَقَالَ رَجُلٌ مَا ایک سو اونٹ دیئے اور عیینہ (بن حصن ) کو بھی أُرِيْدَ بِهَذِهِ الْقِسْمَةِ وَجْهُ اللهِ فَقُلْتُ اتنے ہی اونٹ اور چند اور لوگوں کو بھی دیا۔یہ دیکھ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر ایک شخص بولا : اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی قَدْ أُوذِي نہیں چاہی گئی۔(حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے قَالَ رَحِمَ اللهُ اللهُ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ۔تھے: میں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا۔آپ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔اطرافه ۳۱۵۰، ۳۴۰۵، ۱۳۳۵ ، ۶۰۵۹، ٦۱۰۰، ٦٢٩١، ٦٣٣٦- 1 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۳۳۷ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، (کہا: ) معاذ الله مَالِكِ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكٍ رَضِيَ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بن معاذ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبد اللہ ) بن عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ عَون نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک سے، ہشام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا، ہوازن اور غطفان وغیرہ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِنَعَمِهِمْ قبلے اپنے مویشی اور اپنے بال بچے لے کر اُمڈ آئے وَذَرَارِتِهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمِنَ الطَّلَقَاءِ تھے۔کچھ ان لوگوں میں سے وہ بھی تھے جن کو فَأَدْبَرُوْا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ فَنَادَى آپ نے احسان کر کے چھوڑ دیا تھا۔وہ سب آپ يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْن لَمْ يَحْلِط بَيْنَهُمَا کو چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگ نکلے۔یہاں تک کہ یہ روایت فتح الباری مطبوعہ دار السلام کے مطابق روایت نمبر ۴۳۳۴ کے بعد ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۷)