صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 183
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۸۳ ۶۴ - کتاب المغازی تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا اور میں نے چاہا کہ ان کے نقصان کی تلافی کروں وَتَرْجِعُوْنَ بِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور ان کی تالیف قلب کروں۔ کیا تم پسند نہیں وَسَلَّمَ إِلَى بُيُؤْتِكُمْ قَالُوا بَلَى قَالَ کرتے کہ لوگ دنیا لے کر لوٹیں اور تم اپنے گھروں لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر لوٹو ؟ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار پہاڑ کے راستہ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ۔ پر چلیں تو میں ضرور انصار کی وادی یا (کہا:) انصار کے راستے پر ہی چلوں گا۔ اطرافه: ٣١٤٦ ، ۳۱٤٧، ۳۵۲۸، ۳۷۷۸، ۳۷۹۳، ۴۳۳۱، ۱۳۳۲، ٤٣٣٣، ٤٣٣٧، -٥٨٦٠ ٦٧٦٢، ٧٤٤١ ٤٣٣٥ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةٌ حَدَّثَنَا ۴۳۳۵ قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ لَمَّا قَسَمَ النَّبِيُّ اعمش نے ابو وائل سے، ابووائل نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةَ حُنَيْنِ عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔ انہوں نے قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ مَا أَرَادَ بِهَا کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کے وَجْهَ اللَّهِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ مال کی تقسیم کی تو انصار میں سے ایک شخص بولا: آپ نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی۔ یہ سن کر میں نبی صلی ال نیم کے پاس آیا اور آپ کو ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ میں نے بتایا۔ آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر فرمایا: أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ۔ موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دیئے گئے، پر انہوں نے صبر کیا۔ اطرافه ۳۱۵۰ ، ٣٤٠٥، ٤٣٣٦، ٦٠٥٩ ، ٦١٠٠، ٦٢٩١، ٦٣٣٦- ٤٣٣٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۳۳۶ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود)