صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 13
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ اس کے ساتھ ہی ہوتا۔آخر وہ شخص زخمی ہوا (اور بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ تکلیف برداشت نہ کر سکا۔) اس نے جلد مر جانے نَفْسَهُ فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِي کے لئے یہ تجویز کی کہ اپنی تلوار کی مٹھے کو زمین پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ رکھا اور اس کی آئی (یعنی نوک) اپنے سینے کے أَنَّكَ رَسُوْلُ اللهِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ درمیان نکائی۔پھر اس پر جھک کر پورا بوجھ ڈالا اور فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ اس طرح اپنے آپ کو مار ڈالا۔وہ (نگرانی کرنے والا) شخص نبی صلی ا کرم کے پاس آیا اور کہا: میں گواہی دیتا بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔آپؐ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے آپ کو سارا واقعہ بتایا۔آپ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ تے (سن کر) فرمایا: ایک آدمی جیسا کہ لوگوں کو نے مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔أطرافه: ۲۸۹۸ ، ۴۲۰۲ ، ۶۴۹۳ ، ۲۶۰۷۔دکھائی دیتا ہے جنتیوں کا کام کر رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی جیسا کہ لوگوں کو دکھائی دیتا ہے دوزخیوں کے کام کر رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔٤٢٠٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۲۰۸ محمد بن سعید خزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ الْجُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ زياد بن ربیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو عمران أَبِي عِمْرَانَ قَالَ نَظَرَ أَنَسٌ إِلَى النَّاسِ (عبد الملک بن حبیب) سے روایت کی۔انہوں يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى طَيَالِسَةً فَقَالَ نے کہا: حضرت انس نے بعض لوگوں کو جمعہ کے كَأَنَّهُمُ السَّاعَةَ يَهُودُ خَيْبَرَ۔دن دیکھا جو طیلسان (کن ٹوپ) پہنے نظر آئے، بولے: یہ اس وقت ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے خیبر کے یہودی۔٤٢٠٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۲۰۹: عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی) نے ہم سے حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدِ بیان کیا کہ حاتم ( بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔