صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 12
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ يَا سلمہ بن اکو) کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ فَقَالَ هَذِهِ دیکھا۔میں نے پوچھا: ابو مسلم ! یہ زخم کیسا ہے؟ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ کہنے لگے: یہ وہ زخم ہے جو مجھے خیبر کی جنگ میں النَّاسُ أُصِيْبَ سَلَمَةُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ لگا تھا۔لوگ کہنے لگے : سلمہ مارا گیا۔میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے اس پر تین بار فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَتَاتٍ فَمَا پھونکیں ماریں پھر اب تک اس ضرب کی مجھے کوئی L اشْتَكَيْتُ حَتَّى السَّاعَةِ۔تکلیف نہیں ہوئی۔٤٢٠٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۴۲۰۷ عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی) نے ہم سے مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بیان کیا کہ (عبد العزیز ) بن ابی حازم نے ہمیں أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ قَالَ الْتَقَى النَّبِيُّ بتایا۔انہوں نے اپنے باپ (سلمہ بن دینار ) سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی) سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ روایت کی، کہا: نبی صلی ا یکم اور مشرکوں کا ایک جنگ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا فَمَالَ كُلُّ میں مقابلہ ہوا۔چنانچہ لڑائی شروع ہوئی۔پھر قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي الْمُسْلِمِيْنَ فریقین اپنے اپنے لشکر میں لوٹ گئے۔مسلمانوں رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ شَاذَّةَ میں ایک شخص تھا جو مشرکوں میں سے کسی اگے دستے وَلَا فَاذَّةَ إِلَّا اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ کو نہ چھوڑتا، ضرور ہی اس کا پیچھا کرتا اور اس کو فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا أَجْزَأَ أَحَدٌ مَا تلوار سے گھائل کر دیتا۔کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فلاں نے جو حق ادا کیا ہے (ان میں سے) کسی نے فَقَالُوا أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: وہ تو دوزخیوں میں سے ہے۔لوگوں نے کہا: اگر یہ دوزخیوں میں سے ہوا تو هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ پھر ہم میں سے کون جنتی ہو گا؟ مسلمانوں میں سے الْقَوْمِ لَأَتَّبِعَنَّهُ فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنْتُ ایک شخص نے کہا: میں تو ضرور اس کے پیچھے پیچے مَعَهُ حَتَّى جُرحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ رہوں گا، جب وہ تیز ہو جاتا یا آہستہ ہو جاتا تو میں عمدة القاری میں أَصَابَتْنِی ہے۔(عمدۃ القاری جزء۷ اصفحہ ۲۴۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اشتگیتھا ہے۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۹۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔