صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 12 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 12

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ يَا سلمہ بن اکوع) کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان أَبَا مُسْلِمِ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ فَقَالَ هَذِهِ دیکھا۔ میں نے پوچھا: ابو مسلم ! یہ زخم کیسا ہے ؟ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ کہنے لگے : یہ وہ زخم ہے جو مجھے خیبر کی جنگ میں النَّاسُ أُصِيْبَ سَلَمَةٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ لگا تھا۔ لوگ کہنے لگے: سلمہ مارا گیا۔ میں بی صلی اللہ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَتَاتٍ فَمَا علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے اس پر تین بار پھونکیں ماریں پھر اب تک اس ضرب کی مجھے کوئی اشْتَكَيْتُ لَ حَتَّى السَّاعَةِ۔ تکلیف نہیں ہوئی۔ ٤٢٠٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۲۰۷: عبداللہ بن مسلمہ ( قعنبی) نے ہم سے مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بیان کیا کہ (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے ہمیں أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ الْتَقَى النَّبِيُّ بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سلمہ بن دینار) سے، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی) سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ یم اور مشرکوں کا ایک جنگ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا فَمَالَ كُلُّ میں مقابلہ ہوا۔ چنانچہ لڑائی شروع ہوئی۔ پھر قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي الْمُسْلِمِينَ فریقین اپنے اپنے لشکر میں لوٹ گئے۔ مسلمانوں رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَادَّةً میں ایک شخص تھا جو مشرکوں میں سے کسی اگے ڈگے وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ کو نہ چھوڑتا ، ضرور ہی اس کا پیچھا کرتا اور اس کو فَقِيلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا أَجْزَأَ أَحَدٌ مَا تلوار سے گھائل کر دیتا۔ کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! فلاں نے جو حق ادا کیا ہے (ان میں سے ) کسی نے أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالُوا أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ تو دوزخیوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر یہ دوزخیوں میں سے ہوا تو هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ پھر ہم میں سے کون جنتی ہو گا؟ ہوگا ؟ مسلمانوں میں سے الْقَوْمِ لَأَتَّبِعَنَّهُ فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنتُ ایک شخص نے کہا: میں تو ضرور اس کے پیچھے پیچھے مَعَهُ حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ رہوں گا، جب وہ تیز ہو جاتا یا آہستہ ہو جاتا تو میں عمدۃ القاری میں أَصَابَتْنِي ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۷ اصفحہ ۲۴۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اشْتَكَيْتُھا ہے۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۹۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔