صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 182
صحیح البخاری جلد ۹ Ar ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ہیں اور آپ کی خدمت کے لئے مستعد کھڑے فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُوْنَ فَأَعْطَى الطَّلَقَاءَ ہیں۔ہم آپ کے سامنے موجود ہیں۔پھر نبی وَالْمُهَاجِرِيْنَ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر پڑے اور آپ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول فَقَالُوْا فَدَعَاهُمْ فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ ہوں اور مشرک شکست کھا کر بھاگ گئے۔آپ فَقَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يُذْهَبَ النَّاسُ نے ان لوگوں کو جنہیں احسان کر کے چھوڑ دیا تھا بِالشَّاةِ وَالْبَعِيْرِ وَتَذْهَبُوْنَ بِرَسُوْلِ اللَّهِ اور مہاجرین کو تو مالِ غنیمت دیا اور انصار کو کچھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ نہ دیا۔انصار باتیں کرنے لگے اور آپ نے ان کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ سَلَكَ بلایا، پھر انہیں ایک بڑے خیمے میں لے گئے۔النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا آپ نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جاؤ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسرے راستے پر چلیں تو میں ضرور انصار کے لَاخْتَرْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ۔اطرافه: ٣١٤٦، ٣١٤٧، راستے کو ہی اختیار کروں گا۔،٤، ١٣٣٤، ٤٣٣٧۳۳۲ ،۴۳۳۱ ،۳۷۹۳ ،۳۷۷۸ ،۳۰۲۸ -٥٨٦٠ ٦٧٦٢، ٧٤٤١ ٤٣٣٤ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۳۳۴ محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ غندر ( محمد بن جعفر) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عَنْهُ قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنَّ عليه وسلم نے انصار میں سے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا۔قُرَيْشًا حَدِيْثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ آپ نے فرمایا: دیکھو قریش زمانہ جاہلیت سے وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا قریب بعید ہیں اور ابھی ابھی مصیبت سے نکلے ہیں