صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 176 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 176

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ کی۔انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَتَى النَّبِيُّ پاس تھا۔آپ جعرانہ میں جو مکہ اور مدینہ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ درمیان ہے، مقیم تھے اور آپ کے ساتھ حضرت أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ بِلال تھے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: کیا آپ میرے لئے أَبْشِرْ فَقَالَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ پورا نہیں کریں گے وہ وعدہ جو آپ نے مجھ سے أَبْشِرْ فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ کیا تھا۔آپ نے اس سے فرمایا: تمہیں بشارت ہو۔كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ رَدَّ الْبُشْرَى اس نے کہا: آپ نے مجھے بہت دفعہ کہا ہے، بشارت فَاقْبَلَا أَنْتُمَا قَالَا قَبِلْنَا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ ہو۔یہ سن کر آپ حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال فِيْهِ مَاءً فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيْهِ کی طرف متوجہ ہوئے جیسے کوئی ناراض ہوتا ہے۔وَمَجَّ فِيْهِ ثُمَّ قَالَ اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا آپ نے فرمایا: اس نے خوش خبری کو رو کر دیا عَلَى وُجُوْهِكُمَا وَنُحُوْرِكُمَا وَأَبْشِرَا ہے، تم دونوں اس کو قبول کر لو۔ان دونوں نے فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا فَنَادَتْ أُمُّ کہا: ہم نے قبول کیا۔پھر آپ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں کچھ پانی تھا۔آپ نے اس سے اپنے دونوں ہاتھوں اور منہ کو دھویا اور کلی کی اور فرمایا: تم دونوں اس سے پیو اور اپنے منہ اور سینوں پر ڈالو اور تمہیں بشارت ہو۔ان دونوں نے وہ پیالہ لیا اور ایسا ہی کیا۔(اتم المؤمنین ) حضرت ام سلمہ نے پردہ کے پیچھے سے آواز دی: اپنی ماں کے لئے بھی کچھ بچا رکھنا۔انہوں نے ان کو بھی اس میں سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السّتْرِ أَنْ أَفْضِلَا لأُمِّكُمَا فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً۔اطرافة: ۱۸۸، ۱۹۶- سے بچا کر دیا۔٤٣٢٩ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۴۳۲۹ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ کہ اسماعیل (بن ابراہیم بن علیہ ) نے ہمیں بتایا قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: