صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 174
صحیح البخاری جلد ۹ ابن ۱۷۴ ۶۴ - کتاب المغازی عُمَرَ قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ جو اندھے تھے، روایت کی کہ حضرت عبد اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ فَلَمْ بن عمر سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: جب يَنَلٌ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ إِنَّا قَافِلُوْنَ إِنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا شَاءَ اللَّهُ فَتَقُلَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا نَذْهَبُ اور آپ نے ان کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔آپ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ (اب) کوٹنے والے ہیں۔یہ وَلَا نَفْتَحُهُ وَقَالَ مَرَّةً نَقْفُلُ فَقَالَ امر مسلمانوں پر شاق گزرا۔کہنے لگے: ہم چلے اغْدُوْا عَلَى الْقِتَالِ فَغَدَوْا فَأَصَابَهُمْ جائیں اور اس کو فتح نہ کریں! اور ایک دفعہ راوی جِرَاحٌ فَقَالَ إِنَّا قَافِلُوْنَ غَدًا إِنْ شَاءَ نے تَذْهَبُ کی بجائے تففُل کا لفظ بیان کیا۔یعنی اللهُ فَأَعْجَبَهُمْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى ہم لوٹ جائیں گے ( اور طائف فتح نہیں کریں گے!) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً اس پر آپ نے فرمایا: جنگ صبح ہی شروع کر دو۔فَتَبَسَّمَ۔قَالَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا چنانچہ وہ دوسرے دن صبح لڑنے گئے تو مسلمان زخمی ہوئے۔آپ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل کوٹ جائیں گے۔یہ سن کر لوگ خوش ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔اور سفیان نے ایک بار یوں کہا کہ آپ مسکرائے۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: حمیدی کہتے تھے: سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ۔اطرافه: ٦٠٨٦ ، ٧٤٨٠ - ٤٣٢٦ - ٤٣٢٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ۴۳۲۶ - ۴۳۲۷ : محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ غندر ( محمد بن جعفر ) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ نے ہمیں بتایا کہ عاصم ( بن سلیمان) سے مروی قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ ہے۔انہوں نے کہا: میں نے ابو عثمان (نہدی) سے سنا۔کہتے تھے: میں نے حضرت سعد بن ابی رَمَى بِسَهُم فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَأَبَا بَكْرَةَ وقاص) سے سنا اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔اور میں نے حضرت ابوبکر