صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 173 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 173

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ بیان کیا کہ انہوں نے سفیان بن عیینہ ) سے زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا سنا۔(کہتے تھے ) کہ ہشام بن عروہ) نے ہمیں أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي ابوسلمہ کی بیٹی حضرت زینب سے، حضرت زینب مُخَنَّثٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْن نے اپنی ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اندر أَبِي أُمَيَّةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ آئے اور اس وقت میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا تھا۔میں نے سنا کہ وہ عبد اللہ بن ابی امیہ سے کہہ رض اللهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعِ وَتُدْبِرُ رہا تھا: عبد اللہ دیکھو، اگر اللہ نے تمہیں کل طائف بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فتح کرا دیا تو تم غیلان کی بیٹی کو لے لینا کیونکہ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ۔جب وہ سامنے سے آتی ہے تو پیٹ پر چار شکن قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ پڑتے ہیں اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ شکن پڑتے ہیں۔( یہ بات سنی تو نبی صلی ا ہم نے فرمایا: آئندہ یہ لوگ تم عورتوں کے پاس ہرگز نہ آیا کریں۔ابن عیینہ نے کہا: اور ابن جریج نے کہا: اس محنث کا نام ہیت تھا۔الْمُخَبَّثُ هِيتٌ۔حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُوْ أُسَامَةَ محمود بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا وَزَادَ وَهُوَ مُحَاصِرُ نے ہمیں بتایا۔ہشام سے مروی ہے کہ انہوں نے یہی بات بتائی اور انہوں نے اتنا زیادہ بیان کیا کہ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ۔اطرافة ٥٢٣٥ ٥٨٨٧- آپ ان دنوں طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔٤٣٢٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۳۲۵ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي کیا۔سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عمرو بن دینار) سے، عمرو نے ابو العباس شاعر سے