صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۷۲ ۶۴ - کتاب المغازی گئے تو وہ اُن سے مطمئن نہیں تھا اور اس نے مالک بن عوف نضری کو مشورہ دیا کہ عورتیں اور بچے کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیئے جائیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج سے لڑا جائے۔اس کا یہ مشورہ قبول نہیں کیا گیا اور جب اُن کے سردار یکے بعد دیگرے مارے گئے اور مشترکہ اتحادی علم بردار قارب بن اسود بن مسعود پر چم ایک جھاڑی میں پھینک کر اپنے ساتھیوں سے بھاگا اور شکست فاش ہوئی تو ڈرید بن صمہ اوطاس میں ایک پہاڑی پر اپنے چھ سو آدمیوں کے ساتھ مورچہ بند ہو گیا تو انہیں دیکھ کر حضرت زبیر بن عوام نے ان کا قصد کیا۔وہ سیاہ عمامہ پہنے تھے۔ڈرید کو اُن کا حلیہ معلوم ہونے پر فکر ہوئی۔کہنے لگا: یہ زبیر ہے اور تم سے لڑے گا اور یہاں سے تمہیں میدانِ جنگ میں نکالے گا۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور تین صد دشمن کے لڑنے والے کام آئے اور حضرت زبیر نے ڈرید کا سر قلم کیا۔امام ابن حجر نے یہ مستند روایت بحوالہ حضرت انس ہزار سے نقل کی اور لکھا ہے کہ ابن اسحق کی روایت میں بالجزم بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ربیعہ بن رفیع سلمی نے ڈرید کو قتل کیا تھا جن کی کنیت ابن الدغنہ ہے یا ابْنُ اللَّعِنه اور ابن اسحاق کی روایت میں ابن الدفنه یا ابن للعَہ ہے۔" اور یہ وہ نہیں جن کا ذکر حضرت ابو بکر کی ہجرت کے تعلق میں آتا ہے۔امام ابن حجر" کے نزدیک روایات کا یہ اختلاف قابل النفات نہیں کیونکہ سپاہی کا قتل امیر جیش کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ڈرید کے قید ہونے پر حضرت زبیر بن عوام کے حکم سے اس کا سر قلم کیا گیا ہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۳) روایت نمبر ۴۳۲۳ میں حضرت ابو عامر اشعری کی شہادت کا ذکر ہے۔بقول ابن اسحاق انہیں تیر سے گھائل کرنے والا سلمہ بن ڈرید جشمی تھا۔ان کے زخمی ہونے پر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے علم کیا اور اللہ تعالیٰ نے غزوہ اوطاس میں اُن کے ہاتھ پر فتح دی۔ابن عائذ اور طبرانی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی ایک مستند روایت نقل کی ہے، جس سے ابن اسحاق کی روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۳، ۵۴) امام بخاری کی مندرجہ بالا روایت میں اختصار ہے۔بَاب ٥٦ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ قَالَهُ مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ۔غزوہ طائف جو شوال ۸ھ میں ہوا موسیٰ بن عقبہ نے اسے (اپنی مغازی میں ) بیان کیا۔٤٣٢٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ سَمِعَ ۴۳۲۴) عبد اللہ بن زبیر ) محمیدی نے ہم سے ل (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة حنين اجتماع هوازن، جزء دوم صفحه ۴۳۷، ۴۳۹) المغازى للواقدی، غزوة حنين، جزء ۳ صفحه ۸۸۶-۸۸۹) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة حنين، مقتل دريد بن الصمة، جزء ۲ صفحه ۴۵۳