صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 171
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۷۱ ۲۴ - کتاب المغازی أَبِي عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي ہوئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنی اور ابو عامر کی فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ سرگزشت بیان کی اور بتایا کہ) انہوں نے کہا تھا کہ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ آپ سے کہنا میر - کہنا:میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ آپ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ نے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ پھر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور کہا: اے اللہ ! عبید ابی عامر کی پردہ پوشی فرما اور اس اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ سے درگزر کر اور ( آپ نے اپنے ہاتھ اتنے اُٹھائے خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ وَلِي فَاسْتَغْفِرْ کہ) آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔ پھر فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الحضرت ای لیم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو قیامت کے ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا دن اپنی بہت سی مخلوق یعنی لوگوں پر فوقیت دے۔ كَرِيمًا ۔ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحْدَاهُمَا لِأَبِي میں نے کہا: اور میرے لئے بھی مغفرت کی دعا کریں۔ الله آپ نے کہا: اے اللہ ! عبد اللہ بن قیس کے گناہوں عَامِرٍ وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوسَى۔ سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر کر اور اطرافه ٢٨٨٤، ٦٣٨٣۔ وء قیامت کے دن اس کو بھی جنت میں ایسے طور سے داخل کر جو عزت کا داخل ہونا ہو۔ ابو بردہ نے کہا: وض ایک دعا حضرت ابو عامر کے لئے اور دوسری حضرت ابو موسی کے لئے کی۔ تشریح : غَزَاةُ أَوطاس : ہوازن و ثقیف وادی حنین کی جنگ میں شکست کھانے کے بعد بعض تو جبل اوطاس کی طرف بھاگے اور بعض طائف کی طرف اور کچھ نخلہ کی طرف لے اور بعض بجیلہ کی طرف۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب کا حکم دیا۔ یہ باب غزوہ اوطاس سے متعلق ہے۔ الگ باب قائم کرنے سے ظاہر ہے کہ وادی حنین، جبل اوطاس سے علیحدہ ہے اور وادیوں کا سلسلہ ایک دوسرے سے متصل ہے۔ مجاہدین غزوہ اوطاس کی قیادت حضرت ابو موسیٰ اشعری کے چچا حضرت ابو عامر عبید بن سلیم بن حضار ) کے سپرد کی گئی۔ جن کا مقابلہ دُرید بن صمہ جشمی سے ہوا۔ قبیلہ جشم ہوازن ہی کی ایک شاخ تھی۔ ڈرید زمانہ جاہلیت کے شعراء میں سے ایک مشہور شاعر جانباز سوار تھا اور فن حرب میں ماہر تھا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۳) بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ كتب مغازی میں اس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ جب غزوہ حنین کے موقع پر اسے سرداران ہوازن کے نام بتائے ل (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة حنين، مقتل دريد بن الصمة، جزء دوم صفحه ۴۵۲)