صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 171 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 171

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی أَبِي عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي ہوئے تھے۔میں نے آپ سے اپنی اور ابو عامر کی فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ سرگزشت بیان کی اور بتایا کہ) انہوں نے کہا تھا کہ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ آپ سے کہنا: میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا۔پھر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ کہا: اسے اللہ عبید ابی عامر کی پردہ پوشی فرما اور اس ! اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيْرِ مِنْ سے در گزر کر اور ( آپ نے اپنے ہاتھ اتنے اُٹھائے خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ وَلِي فَاسْتَغْفِرْ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دی۔پھر فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسِ آنحضرت علی ایم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو قیامت کے ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا دن اپنی بہت سی مخلوق یعنی لوگوں پر فوقیت دے۔كَرِيمًا۔قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحْدَاهُمَا لِأَبِى میں نے کہا: اور میرے لئے بھی مغفرت کی دعا کریں۔آپ نے کہا: اے اللہ ! عبد اللہ بن قیس کے گناہوں عَامِرٍ وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوْسَى۔سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر کر اور قیامت کے دن اس کو بھی جنت میں ایسے طور سے داخل کر جو عزت کا داخل ہونا ہو۔ابو بردہ نے کہا: ایک دعا حضرت ابو عامر کے لئے اور دوسری حضرت ابو موسی کے لئے کی۔اطرافه ٢٨٨٤، -٦٣٨٣ تشریح : غَزَاةُ أَو طاس : ہوازن و ثقیف وادی حنین کی جنگ میں شکست کھانے کے بعد بعض تو جبل اوطاس کی طرف بھاگے اور بعض طائف کی طرف اور کچھ نخلہ کی طرف لے اور بعض بجیلہ کی طرف۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب کا حکم دیا۔یہ باب غزوہ اوطاس سے متعلق ہے۔الگ باب قائم ے متصل ہے۔کرنے سے ظاہر ہے کہ وادی حنین، جبل اوطاس سے علیحدہ ہے اور وادیوں کا سلسلہ ایک دوسرے سے م مجاہدین غزوۃ او طاس کی قیادت حضرت ابو موسیٰ اشعری کے چا حضرت ابو عامر (عبید بن سلیم بن حضار ) کے سپرد کی گئی۔جن کا مقابلہ ڈرید بن صمہ جشمی سے ہوا۔قبیلہ جسم ہوازن ہی کی ایک شاخ تھی۔ڈرید زمانہ جاہلیت کے شعراء میں سے ایک مشہور شاعر جانباز سوار تھا اور فن حرب میں ماہر تھا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۳) بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔کتب مغازی میں اس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ جب غزوہ حنین کے موقع پر اسے سر داران ہوازن کے نام بتائے ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة حنين مقتل دريد بن الصمة، جزء دوم صفحه ۴۵۲)