صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 169 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 169

174 صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِ سَبِيلَهَا - ( فتح البارى جزء ۸ صفحه ۴۵) مذکورہ بالا حوالہ جات سے امام بخاری کا مقصد واضح ہے کہ جعرانہ میں قیدی آزاد اور مال واپس کئے گئے تھے۔اس روایت کے تعلق میں دیکھئے کتاب فرض الخمس روایت نمبر ۳۱۴۴ جہاں تک معنونہ آیات سے روایات باب کا تعلق ہے وہ ظاہر ہے کہ غزوہ حنین کے واقعہ نے بتادیا کہ فتح و غلبہ کا دارومدار کثرت تعداد پر نہیں بلکہ نصرت الہی پر ہے اور فتح و نصرت حاصل ہونے کے بعد بھی فاتح و منصور انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجو د رہے اور اس سے اپنی لغزشوں، کوتاہیوں، کمزوریوں اور غفلتوں کے لئے مغفرت طلب کرتا رہے۔یہ سبق صحابہ کرام کو غزوہ حنین میں سکھایا اور ہمارے لئے آیات محولہ بالا میں محفوظ کیا گیا۔غزوہ حنین کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبائل ہوازن فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔انہیں اپنے مصنوعی خداؤں کے بطلان کا یقین ہو گیا تھا۔غیر معمولی نصرت الہی کے واقعات دیکھنے کے بعد جیسے قریش ذہنی طور پر شکست خوردہ تھے، قبائل عرب پر بھی یہی ذہنی شکستگی طاری تھی۔یہ پیہم شکستیں آیت سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ (الأنفال :۱۳) یعنی ” میں کفار کے دلوں میں رعب ڈالوں گا“ کی تفسیر اور قولِ نبوی نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یعنی مجھے رُعب سے مدد دی گئی ہے۔(کتاب الجھاد والسیر، باب ۱۲۲، روایت نمبر ۲۹۷۷) کا عملی ثبوت اور اس بات کی شرح تھیں۔قبائل ہوازن ہزاروں کی تعداد میں تھے۔نہ صرف شکست کھا کر تتر بتر ہو گئے بلکہ بہت جلد انہیں اپنے باطل معبودوں کی حقیقت کا علم ہو گیا اور اسلام کی دعوت ہدایت قبول کی اور یہی اصل مدعا و مقصود الہی تھا، اُن جنگوں سے جن کا آغاز باطل پرستوں کی طرف سے ہوا اور انجام تقدیر الہی سے بخیر ہوا۔بَاب ٥٥ : غَزَاةُ أَوْطَاسٍ غزوہ اوطاس بْنِ ٤٣٢٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۴۳۲۳ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید بن عبد اللہ سے، برید نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى اشعری سے روایت کی، کہا: جب نبی صلی الم اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ حين سے فارغ ہوئے تو آپ نے حضرت ابو عامر حسنین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ (اشعری) کو ایک فوج کا سردار مقرر کر کے اوطاس بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشِ إِلَى کی طرف بھیجا۔اُن کا ڈرید بن صمہ سے مقابلہ ہوا رَضِيَ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ "غزوة“ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۲)