صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 168 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 168

صحیح البخاری جلد ۹ IMA ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی ﷺ کی بہادری کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَلْقِي بِهِ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَ اللَّذِي يُحَاذِى به۔۔۔- جب کفار سے گھمسان کی جنگ ہو رہی ہوتی تھی اور اس میں بچاؤ کی ضرورت پڑتی تو ہم آنحضرت مسیلی کیم کواپنے بچاؤ کا ذریعہ بناتے تھے اور بہادر وہ ہوتا تھا جو آپ کے سامنے ہوتا۔یعنی ہوازن کی جنگ میں جب صحابہ ادھر اُدھر ہو گئے تو اُس وقت کا جو نقشہ روایات میں کھینچا گیا ہے وہ یہ ہے: أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ حِينَئِذٍ صَارَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ إِلَى جِهَةِ الْكُفَّارِ وَزَادَ فَقَالَ أَن عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ الشَّجَرَةِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ صَيْتًا قَالَ فَنَادَيْتُ باعلى صوتى اَيْنَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ قَالَ فَوَاللهِ لَكَانَ عَطَفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوتي عَطَفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَالَبَيْكَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ هَذَا حِيْنَ حَمِيَ الوطيس - - فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰) کہ نبی کریم صلی لے تم اپنی خچر کو جس پر آپ سوار تھے ، ایڑی لگا کر کفار کی طرف بڑھنے لگے۔پھر مزید یہ بیان ہوا ہے کہ آپ نے حضرت عباس کو بلا کر یہ فرمایا کہ زور سے آواز دو کہ اے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! آگے بڑھو۔حضرت عباس کی آواز بہت اونچی تھی۔حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے اونچی آواز سے یہ کہا ہی تھا کہ اے اصحاب شجرہ! تم کہاں ہو ؟ جو نہی صحابہ کے کانوں میں یہ آواز پڑی، وہ ایسے تیزی سے کوٹے جیسے گائے اپنے بچھڑے کو بچانے محبت سے ٹوٹ پڑتی ہے۔صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔پھر صحابہ کفار پر ٹوٹ پڑے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لڑنے کا نظارہ دور سے دیکھ رہے تھے اور یہ سب کچھ اس وقت کی بات ہے جب گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔امام بخاری نے مسلمانوں کی اعلیٰ درجہ کی بہادری بتانے کے لیے اس امر کا ذکر کیا ہے۔باب کی ساتویں روایت (نمبر ۴۳۲۰) بھی دو حوالوں سے منقول ہے ، معمر اور حماد کی سند سے۔اور اسماعیلی کے نزدیک دونوں کی روایتوں کو جمع کرنا قابل اعتراض ہے کیونکہ الفاظ لها فَقَلْنَا مِنْ حُنَيْن حماد بن زید کی روایت میں نہیں ہیں۔امام ابن حجر نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ امام موصوف کے مد نظر یہ بتانا مقصود ہے کہ غزوہ طائف سے واپسی پر حضرت عمرؓ نے جعرانہ میں فتوی دریافت کیا اور تقسیم غنائم ہوئی۔اس بات پر عام لوگوں کو اتفاق ہے۔دونوں روایتیں لفظی اختلاف کے باوجود معنا متفق ہیں۔حماد بن زید کی روایت کے بعد جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ کی روایت کا حوالہ اسی غرض سے دیا گیا ہے کہ ان کے بیان میں بالوضاحت طائف سے لوٹنے کا ذکر ہے۔ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ سَأَلَ رَسُولٌ الله الله ﷺ وَهُوَ بِالْمُعْرَانَةِ بَعْدَ أَن رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى قَالَ اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ل قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةٌ مِنَ الْخُمْسِ فَلَمَّا اعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ قَالَ (مسلم، كتاب الجهاد و السير، باب في غزوة حنين)