صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 167 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 167

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۷ ۶۴ - کتاب المغازی گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مٹھی بھر مٹی نے دشمن کو بھگا دیا۔ روایت کرنے والے کا نام نہیں بلکہ یہ الفاظ ہیں: فَا۔ فَأَخْبَرَنِي الَّذِي كَانَ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنى - یہ بات مجھے اُس نے بتائی جو مجھ سے آپ کے : جو مجھ سے آپ کے زیادہ قریب تھا، یا یہ الفاظ ہیں: فَحَدَّثَنِي أَبْنَاءهُمْ عَنْ آباءِ ھو کہ یہ بات روایتاً بیان ہوئی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۰، ۴۱) امام بخاری کے نزدیک یہ روایت مستند نہیں۔ پانچویں اور چھٹی روایت (نمبر ۴۳۱۸، ۴۳۱۹) کا تعلق جعرانہ مقام سے ہے۔ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے قیدی اور اموالِ غنیمت طائف کے محاصرہ سے مراجعت پر تقسیم کئے تھے اور ان کا وفہ ، اور اُن کا وفد اُن کی واپسی کے لئے جعرانہ پہنچا۔ اس روایت میں ہے وَزَعَمَ عُرْوَةٌ- محولہ بالا عروہ بن زبیر کی روایت موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے اپنی مغازی میں مفصل نقل کی ہے اور بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شوال میں طائف سے جعرانہ لوٹے جہاں ہوازن کے قیدی تھے۔ پھر ہوازن کا ایک وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وفد میں اُن کے تو سردار تھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا اور آپؐ سے بیعت کی۔ آپؐ سے عرض کیا کہ آپؐ کے پاس مائیں، بہنیں، چائیں اور خالائیں قیدی ہیں جو قوم کے لئے ذلت ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں ان سے بات کرتا ہوں۔ تم لوگ بھی ان سے بات کرو۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ وفد نے کہا: یا رسول اللہ ! قیدی آپ کے رشتہ دار اور برادری کے ہیں۔ زہیر بن صرد جو اُن کے خطیب تھے ، انہوں نے کہا: یہ جو قید میں ہیں، آپؐ کی خالائیں اور چائیں اور آپؐ کی انائیں ہیں۔ جنہوں نے آپؐ کی پرورش کی ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۲، ۴۳) نویں روایت (نمبر ۴۳۲۲) کے شروع میں ہے: وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْیی بن سَعِید کہ لیث نے کہا کہ مجھے یحی بن سعید نے بتایا۔ لیث کی روایت اختصار کے ساتھ کتاب الاحکام روایت نمبر ۷۰ اے میں دیکھئے۔ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا يُعْطِهِ أَصبع : اصبغ کے کئی معنی کیے گئے ہیں۔ ابن حجر کے نزدیک اس سے مراد ایک کمزور پرندہ ہے۔ ہماری زبان میں اسے پری کہتے ہیں اور صبغاء ایک کمزور پودا ہے جو کو نپل نکلتے ہی سورج کی حرارت سے زرد ہو جاتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۲) یہ تشبیہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ قریش میں سے کوئی بودا شخص اللہ کے شیر کا شکار نہیں لے سکتا۔ اس سے ا اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ قریش مکہ میں سے جو جو دو ہزار کمزور کو مسلم غزوہ حنین - سے حسین کے دس ہزار شیر دل مجاہدین کے ساتھ شریک ہو۔ ہوئے تھے، انہوں نے بزدلی دکھائی اور تاب مقاومت نہ لا کر بھاگنے لگے اور اب فتح کے بعد اُن کی غنیمت لینے کی طمع کرتے ہیں۔ الفاظ كَلَّا لَا يُعْطِهِ أَصَيْبِغَ مِنْ قُرَيش - غصے کا اظہار ہے۔ حضرت ابو بکر قریش کے فعل سے شدید متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ آپؐ نے قریش مکہ کو پری اور مجاہدین مدینہ کو اللہ کے شیر کہا۔ صحیح مسلم کی روایت میں جو ابو اسحاق سے منقول ہے، حضرت براء بن عازب 1 (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حديث أبي عبد الرحمن الفهری، جزء ۵ صفحه (۲۸۶) (السيرة النبوية لابن هشام، أمر أموال هوازن و سباياها، من الرسول على هوازن، جزء ۲ صفحه ۴۸۸)