صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 166
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۶ ۶۴ - كتاب المغازي دس ہزار لشکریوں کے کوچ کا سوال وقت چاہتا ہے۔ دو ہزار مجاہدین مکہ سے بھی اس میں شامل ہو گئے تھے۔ باب ہذا کے تحت نوروایتیں اور بعض حوالے نقل کئے گئے ہیں۔ پہلی روایت نمبر ۴۳۱۴) حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کی ہے کہ اُن کا ہاتھ غزوہ حنین میں زخمی ہوا تھا۔ روایت کے راوی نے حضرت عبد اللہ بن ابی اونی سے پوچھا: شهدت حُنَيْنا ؟ کیا آپ غزوہ حنین میں موجود تھے ؟ قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ۔ انہوں نے کہا: اس سے پہلے بھی لڑائیوں میں) رتھا۔ امام احمد بن حنبل کی روایت میں ہے : قَالَ نَعَمْ وَ قَبْلَ ذَلِكَ " کہا: ہاں۔ اور اس سے پہلے بھی (دیگر دیگر غزوات میں شریک ہوا تھا۔ دوسری، تیسری اور چوتھی روایت میں صحابہؓ کے منتشر ہو جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت قدم رہنے کا ذکر ہے۔ موجود دوسری روایت (نمبر ۴۳۱۵) میں منتشر ہونے والوں کے متعلق یہ الفاظ ہیں: وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ یعنی لوگوں میں سے جلد بازوں نے جلدی کی۔ تاریخ طبری میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حسنین پر آئے تو تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی میں جو بہت گہری تھی، اترنے لگے۔ نشیب سیدھا تھا، اُترتے وقت سنبھل نہ سکے ، خود بخود اترتے چلے گئے۔ صبح کا وقت تھا اور دشمن ہماری آمد کی خبر پا کر پہلے سے وادی کے پیچیدہ راستوں اور موڑوں پر مورچہ لگائے گھات میں بیٹھا تھا۔ ہم بے اختیار اترتے چلے جارہے تھے کہ دشمن نے اپنی کمین گاہوں سے ہم پر تیر برسانے شروع کر دئے اور ہم سراسیمہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کی داہنی جانب ایک طرف ہٹ کر صحابہ صحابہ کرام کو اپنی طرف آنے کے لئے آواز دی۔ آپ ثابت قدم رہے۔ کے یہ واقعہ ہے جس کا ذکر دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ قوم میں سے جلد باز بھاگے تھے جنہیں ہوازن نے اپنے تیروں کا نشانہ بنایا۔ یہ لوگ مشہور تیر انداز تھے اور ان کے کئی قبائل تھے جو جبل اوطاس کے دامن اور وسیع و شاداب میدانوں میں آباد اور مشرکانہ عقائد میں پختہ تھے۔ چوتھی روایت (نمبر ۷ ۴۳۱) کے کے آخر میں ہے: قَالَ إِسْرَائِيلُ وَزُهَيْرُ ۔ اسرائیل سے مراد اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق اور زہیر سے ابن معاویہ جعفی ہیں۔ دونوں نے بسند ابی اسحاق حضرت براء بن عازب کی مذکورہ بالا روایت موصولا نقل کی ہے۔ ان روایات کے لیے دیکھئے کتاب الجہاد، روایت نمبر ۲۹۳۰، ۳۰۴۲۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰) صحیح مسلم میں حضرت سلمہ بن اکوع کی روایت میں اس واقعہ جنگ کا ذکر ہے کہ جب ہوازن نے اچانک حملہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر سے اتر کر ایک مٹھی بھر مٹی لی اور حملہ آوروں کے مونہوں کی طرف پھینکی اور فرمایا: شَاهَتِ الْوُجُوهُ اور ان میں سے کوئی بھی نہ تھا جس کی آنکھیں مٹی سے بھر نہ گئی ہوں اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ سے مسند احمد بن حنبل وغیرہ کی روایتوں میں بھی اس معجزہ کا ذکر ہے کہ مسلم مجاہدین اچانک حملہ کی وجہ سے پلٹ ! (مسند احمد بن حنبل، مسند الكوفيين بقية حديث عبد الله بن ابی اوفی، جزء ۴ صفحه ۳۵۵) (تاريخ الطبرى، ذكر الخبر عن غزوة رسول الله هو ازن بحنین، جز ء ۳ صفحه ۷۴) (مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب في غزوة حنين)