صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 165
۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۵ ہے۔ اوطاس نام کا پہاڑ یا اس نام کی وادی مکہ اور طائف کے درمیان نہیں بلکہ طائف کے شمال مشرق میں اس کا محل وقوع ہے اور اسی طرف ہوازن قبائل کی آبادی اب تک ہے جو طائف سے بصورت قافلہ تین دن کا سفر ہے۔ امام بخاری نے غزوہ حنین اور اوطاس کے متعلق الگ الگ باب قائم کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وادی حنین اور وادئی اوطاس دو مختلف مقام ہیں۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوجی نقل و حرکت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ آپ پہلے حسنین گئے پھر اوطاس اور طائف کی مہمات ہوئیں۔ اسی ترتیب سے امام بخاری نے تین ابواب میں ان مقامات سے متعلق غزوات کا ذکر کیا ہے۔ سیرت ابن ہشام کے بیان سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ دراصل غزوہ حنین کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نخلہ گئے اور پھر قرن المنازل سے براہ راست لیہ اور لیہ سے طائف پہنچے۔ N أوطاس ذات عرق إلى الشام عكاظ 20 km 11 قرن المنازل 》 لية 《 {{ == نخله يمانيه طائف إلى بجيلة الزيمة {{ حنين جعرانه سرفه و تنعيم که===== ملی ۔ مزدلفه ۔ عرفات إلى اليمن غزوہ حنین کے لئے مجاہدین کا کوچ رمہ رین کا کوچ رمضان کے آخر یا شوال کے ابتداء میں ہوا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ رمضان ختم ہونے میں صرف دو دن ہے دن باقی تھے اور بعض میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چھ شوال کو مکہ مکرمہ سے چلے تھے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۵) یہ روایتیں آپس میں مختلف نہیں۔ کوچ کی تیاری رمضان کے آخر میں شروع ہوئی اور چھ شوال کو آخری کوچ ہوا۔