صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 164
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۴ ۶۴ - کتاب المغازی رخصت کئے جانے کی خبر سن کر مشتعل تھے۔ عمر بن شبہ نے اپنی کتاب مکہ میں بسند ابی زناد، عروہ کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ولید کو بذریعہ خط و کتابت اس کے معلوم کرنے کی خواہش پر فتح مکہ کے حالات سے تحریراً اطلاع دی اور یہ لکھا کہ فلاں وقت یہ غزوہ ہوا اور فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں نصف ماہ ٹھہرے۔ اس اثناء میں آپ کو خبر ملی کہ ہوازن و ثقیف آپ سے آمادہ جنگ ہیں اور اس غرض سے وہ وادی حنین میں اکٹھے ہو رہے ہیں اور سردار ہوازن عوف بن مالک نضری جنگی تیاری میں مشغول ہے۔ ابو داؤد نے بھی حضرت سہل بن خنظلیہ کی روایت اس بارہ میں نقل کی ہے جو اس غزوہ میں شریک تھے۔ بلحاظ سند یہ روایت حسن ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس غزوہ کے لئے ایک لمبا راستہ اختیار کیا۔ آپ کو ہوازن و ثقیف سے متعلق اطلاع دینے والا ایک شخص تھا۔ ابن اسحاق کی روایت میں جو حضرت جابرؓ سے مروی ہے اطلاع دینے والے کا نام حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی بتایا گیا ہے۔ کے مخبر نے بتایا کہ جب میں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہوازن اپنے اہل و عیال اور مال مویشی کے ساتھ حنین میں جمع ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِن شَاءَ اللہ اللہ نے چاہا تو کل یہ مسلمانوں کی غنیمت ہوگی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۵) ان بیانات سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل کی نقل و حرکت سے متعلق خبر رسانی کا انتظام مضبوط کیا ہوا تھا۔ مذکورہ بالا اطلاع ملنے پر آپ نے اطراف کا رُخ کیا جہاں یہ قبائل رہتے تھے تا اُن سے موقع پر نپٹا جائے۔ ورنہ اُن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں مکہ مکرمہ خونریزی سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ وادی حنین کے موقع سے متعلق بعض کا خیال ہے کہ ا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ سے کافی دور ۔ دور ہے۔ ابوداؤد کی محولہ بالا را بالا روایت میں حضرت سہل بن حنظلیہ کا بیان ہے : أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ کہ مجاہدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حسنین کی طرف چلے اور لمبا سفر طے کیا۔ اگر وادی حنین قریب ہوتی تو اُس کے لئے لمبے سفر کی ضرورت نہ تھی۔ ان کے نزدیک حنین جبل اوطاس کی ایک وادی کا نام ہے۔ سیرت ابن ہشام میں حنین کا موقع و مقام جبل اوطاس کے دروں و پیچیدہ وادیوں کے قریب بتایا گیا ہے ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم براستہ نخلہ یمانیہ اور قرن المنازل سے ہوتے ہوئے پہلے مقام لیہ پر پہنچے اور پھر وہاں سے طائف گئے۔ وادی لیہ طائف سے جنوب مشرق میں تقریباً 9 میل کے فاصلہ پر زرخیز علاقہ ہے اور اسی نام کا ایک گاؤں اور بھی (سنن ابی داود، كتاب الجهاد، باب فی فضل الحرس في سبيل الله ) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة حنين، بعث ابن ابی حدار دعينا على هوازن، جزء ۲ صفحه ۴۳۹-۴۴۰) (سنن أبی داود، كتاب الجهاد، باب فی فضل الحرس في سبيل الله ) (سنن أبی داود، كتاب الجهاد، باب فی فضل الحرس في سبيل الله) السيرة النبوية لابن هشام، غزوة حنين اجتماع هوازن، جزء ۲ صفحه ۴۳۷) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الطائف، الطريق إلى الطائف، جزء ۲ صفحه (۴۸۲)