صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 163
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی ا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابو بکر نے کہا: ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ قریش کے ایک بجو کو تو سامان دلا دیں اور اللہ کے خِرَافًا فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَتَّلْتُهُ فِی شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس الْإِسْلَامِ۔کے رسول صلی ایم کی طرف سے لڑ رہا ہو۔حضرت ابو قتادہ کہتے تھے : رسول اللہ صل اللی کم کھڑے ہوئے، آپ نے مجھے وہ سامان دلا دیا۔میں نے اس سے کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد پیدا کیا۔أطرافه: ۲۱۰۰ ، ٣١٤۲، ٤٣٢١، ۷۱۷۰- ریح : غَزْوَةُ حُنَيْنٍ : غزوہ حنین کے تعلق میں عنوان باب قرآن مجید کی آیت سے قائم کیا گیا ہے۔پوری آیت یہ ہے: لَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَ يَوْمَ حُنَيْنِ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمُ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ ثُمَّ وَلَيْتُمُ مُدبِرِينَ (التوبة: ۲۵) اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے اور حسنین کے روز بھی جب تم اپنی کثرت پر اتر ائے تو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین فراخ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم نے پیٹھ دکھاتے ہوئے منہ پھیر لیا۔فتح مکہ کے بعد تین غزوات کا ذکر الگ الگ ابواب میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی حسین، اوطاس اور طائف کا۔یہ تینوں جنگیں ضمنی ہیں، جن سے مقصود فتح مکہ کا استحکام تھا۔مکہ مکرمہ کے مضافات میں دشمن قبائل مشرکین کا وجود فتح مکہ کی اغراض کے لئے ایک مستقل خطرہ تھا جو اگر ڈور نہ کیا جاتا تو احتمال بلکہ یقین تھا کہ فتح کا مقصود ہی کالعدم ہو جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی فتح کے لئے جن چار دستہ ہائے فوج کی ترتیب دی وہ ایک محکم تدبیر جنگ تھی۔حضرت خالد بن ولیڈ کی سرکردگی میں لڑا کا فوج کا راستہ گلی گھائی کی سمت میں مسفلہ مقام سے تجویز فرمایا جو مکہ مکرمہ کا جنوبی حصہ ہے۔جنگجو قبائلی اس سمت میں جمع تھے۔ان کا اندازہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزریں گے۔لیکن آپ نے شمال کی طرف گدار گھائی کا راستہ اختیار کیا۔راستوں کا تعین ایک خاص منصوبہ جنگ کے مطابق تھا، جس کی تیاری میں عملہ خبر رسانی سے کام لیا گیا تھا۔اسی طرح مدینہ کو مراجعت کے لئے ایسا راستہ اختیار کیا گیا جس سے مذکورہ بالا غرض حاصل ہونے کے امکانات تھے۔مغازی کی روایات غزوہ حنین کے اسباب سے متعلق متفق ہیں کہ مکہ مکرمہ کے دوران قیام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خبر رسانوں وغیرہ کے ذریعہ اطلاع مل چکی تھی کہ مالک بن عوف نفری قبائل ہوازن کو آپ پر حملہ کرنے کی غرض سے اکٹھا کر رہا ہے اور بنو ثقیف بھی ان کے ہم آہنگ ہیں۔وہ بیت اللہ سے ان کے دیوتا وغیرہ