صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 162
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۲ ۶۴ - کتاب المغازی يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ فَأَسْرَعْتُ جلدی سے لپکا جو ایک مسلمان پر اس طرح دھو کہ إِلَى الَّذِي يَحْتِلُهُ فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِی سے چھپٹنا چاہتا تھا۔اس نے مجھے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور میں نے اس کے ہاتھ پر وار وَأَضْرِبُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا ثُمَّ أَخَذَنِي کر کے اُس کو کاٹ ڈالا۔اس کے بعد اُس نے مجھے فَضَمَّنِي ضَمَّا شَدِيدًا حَتَّى تَخَوَّفْتُ پکڑلیا اور اس زور سے مجھے بھینچا کہ میں بے بس ثُمَّ بَرَكَ فَتَحَلَّلَ وَدَفَعْتُهُ ثُمَّ قَتَلْتُهُ ہو گیا۔پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا۔وہ ڈھیلا پڑ گیا اور وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُوْنَ وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ میں نے اس کو دھکا دیا اور اس کو مار ڈالا۔ادھر یہ فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ حال ہوا کہ مسلمان شکست کھا کر بھاگ گئے۔میں بھی ان کے ساتھ بھاگ گیا۔پھر میں کیا دیکھتا فَقُلْتُ لَهُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَقَالَ أَمْرُ ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کے ساتھ اللهِ ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ہیں۔میں نے اُن سے کہا: لوگوں کو کیا ہوا (کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ بھاگ کھڑے ہوئے۔) انہوں نے کہا: اللہ کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَقَامَ بَيْنَةٌ منشاء پھر لوگ لوٹ کر رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس عَلَى قَتِيْل قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ آگئے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: جو شخص کسی مقتول کے متعلق یہ ثبوت پیش کر دے کہ اُس نے لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيْلِي فَلَمْ أَرَ اُس کو قتل کیا ہے تو اُس مقتول کا سامان اُس کے أَحَدًا يَشْهَدُ لِي فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي قاتل کا ہو گا۔میں اُٹھا کہ اپنے مقتول سے متعلق فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کوئی شہادت ڈھونڈوں مگر کسی کو نہ دیکھا جو میری عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَانِهِ شہادت دیتا اور میں بیٹھ گیا۔پھر مجھے خیال آیا اور میں نے اُس مقتول کا واقعہ رسول اللہ صلی الم سے سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيْلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي ذکر کیا۔آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے فَأَرْضِهِ مِنْهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا ایک شخص نے کہا: اس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر يُعْطِهِ أَصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا کرتے ہیں میرے پاس ہیں۔آپ اُن ہتھیاروں مِنْ أَسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ کی بجائے ان کو (کچھ دے دلا کر) راضی کر دیں۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ ترک ہے (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔