صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 161
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ کون دے گا؟ یہ خیال کر کے پھر بیٹھ گیا۔کہتے فَقَالَ رَجُلٌ صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي تھے : پھر نبی صلی الیم نے ویسا ہی فرمایا۔پھر میں فَأَرْضِهِ مِنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَاهَا اللَّهِ اُٹھا۔آپ نے پوچھا: ابو قتادہ ! تمہیں کیا ہے ؟ میں إِذًا لَّا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أَسْدِ الله نے آپ سے وہ واقعہ بیان کیا تو ایک شخص کہنے لگا: اس نے سچ کہا ہے اور اس کا غنیمت کا ساز وسامان يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ میرے پاس ہے۔میری طرف سے (ابو قتادہ) کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ فَقَالَ کچھ دے کر راضی کر دیں۔حضرت ابو بکر نے یہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ سن کر کہا: یہ تو ہر گز نہیں ہوگا۔اللہ کی قسم ! آنحضرت فَأَعْطِهِ فَأَعْطَانِيْهِ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا عَلَى الله علم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا سامان جو فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَلْتُهُ کہ اللہ اور اُس کے رسول صل الی یکم کی طرف سے لڑتا رہا ہے، چھین کر تجھے نہیں دیں گے۔نبی صل اللہ ہم نے فرمایا: ابوبکر نے سچ کہا ہے، وہ سامان ابو قتادہ کو فِي الْإِسْلَامِ۔دے دو۔چنانچہ اس نے مجھے وہ سامان دے دیا۔میں نے اُس سے بنی سلمہ کے محلہ میں کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد کے پیدا کیا تھا۔أطرافه: ۲۱۰۰، ۳۱۲، ۱۳۲۲ ، ۷۱۷۰- ٤٣٢٢ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۴۳۲۲ اور لیث بن سعد) نے کہا: یحی بن سعید بْنُ سَعِيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ (انصاری) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، عمر نے حضرت ابو قتادہ کے غلام۔بْن أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى ابو محمد سے روایت کی کہ حضرت ابو قتادہ کہتے تھے: أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ لَمَّا جب حسنین کا واقعہ ہوا تو میں نے مسلمانوں میں سے كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَى رَجُلٍ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مشرک شخص سے لڑ رہا ہے اور ایک اور مشرک ہے جو دھوکہ دے کر چپکے مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ يُقَاتِلُ رَجُلًا مِنَ سے اس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہ الْمُشْرِكِيْنَ وَآخَرُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اس کو مار ڈالے۔یہ دیکھ کر میں اس شخص کی طرف