صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 160 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 160

صحيح البخاری جلد ۹ 19+ ۶۴ - کتاب المغازی انہوں نے کہا: جس سال حنین کا واقعہ ہوا، ہم نبی ٤٣٢١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بن سَعِيدٍ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ سعيد (انصاری) سے ، یحی نے عمر بن کثیر بن افلح أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ کے غلام ابو محمد سے، انہوں نے حضرت ابو قتادہ سے روایت کی۔أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ من الم کے ساتھ نکلے۔جب ہماری مڈ بھیڑ ہوئی تو فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِيْنَ جَوْلَةٌ مسلمان اِدھر اُدھر ہٹ گئے۔تو میں نے مشرکوں فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَدْ عَلَا میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اُس نے ایک مسلمان رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ شخص کو قابو کیا ہوا ہے۔میں نے اس کے پیچھے سے وَّرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ آکر اُس کے مونڈھے کی رگ پر تلوار سے ضرب فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي لگائی اور اُس کی زرہ کاٹ ڈالی۔وہ مجھ پر لپکا اور ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيْحَ الْمَوْتِ ثُمَّ اس زور سے مجھے بازو میں لے کر دبایا کہ موت کی أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی۔پھر موت نے عُمَرَ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اس کو آدبوچا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔میں حضرت عمررؓ سے جاملا۔میں نے پوچھا: لوگوں کو اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ رَجَعُوْا وَجَلَسَ النَّبِيُّ کیا ہو گیا کہ وہ بھاگ نکلے۔انہوں نے کہا: اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ عزوجل کا یہی منشاء تھا۔پھر مسلمان پلٹے اور نبی قَتِيْلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُلْتُ من الر تم بیٹھ گئے۔آپ نے فرمایا: جس نے کسی کو مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ مارا ہو، اس کے پاس اس کے متعلق ثبوت ہو تو قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُس کا (سارا) سامان اُس کو ملے گا۔میں نے کہا: مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي میری گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ حضرت ابو قتادہ کہتے تھے: پھر نبی علی ایم نے ویسا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ ہی فرمایا۔میں اُٹھا اور میں نے خیال کیا: میری گواہی