صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 158
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ کرتا رہا ( تم نے دیر کر دی۔) رسول اللہ صلی اللہ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا علیہ وسلم جب طائف سے لوٹے تو اُن کا دس سے تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ کچھ اوپر راتیں انتظار کرتے رہے۔ جب اُن پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا اچھی طرح واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوْا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ اُن کو واپس کرنے کے نہیں مگر دو چیزوں میں سے صرف ایک چیز۔ تو کہنے لگے: پھر ہم اپنے قیدی ہی چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى میں تقریر کے لئے) کھڑے ہوئے اور آپ عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا نے پہلے اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوْنَا تَائِبِينَ پھر آپ نے فرمایا: دیکھو تمہارے بھائی ہمارے وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ پاس تو بہ کر کے آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ ہے کہ اُن کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔ پس جو فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ تم میں سے یہ پسند کرے کہ خوشی سے اُن کو عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ واپس کر دے تو وہ کر دے اور جو تم میں سے یہ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ بند کرے کہ وہ اپنے حصہ پر ہی قائم رہے، اس النَّاسُ قَدْ طَيْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ شرط پر کہ ہم پہلی غنیمت ۔ ت سے جو اللہ ہمیں عطا فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرے گا اُس کو دیں تو ایسا ہی کرے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے خوشی سے منظور کر لیا۔ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا تَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نہیں فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَّمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوْا حَتَّى جانتے کہ تم میں سے کس نے اس کے متعلق يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ اجازت دی اور کس نے نہیں دی۔ اس لئے لوٹ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوْا جاؤ تاکہ تمہارے سربراہ تمہارا فیصلہ ہمارے إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس پیش کریں۔ لوگ واپس چلے گئے۔ اُن کے فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيِّبُوْا وَأَذِنُوْا ۔ سربراہوں نے اُن سے بات چیت کی۔ پھر وہ