صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 153 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 153

حيح البخاری جلد ۹ ۱۵۳ ۶۴ - کتاب المغازی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔مجھے بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اس طرح کہا، یا اس کے قریب قریب بتایا اور اسے حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی ال یکم سے روایت کیا۔أطرافه ١٣٤٩، ۱۳۸۷، ۱۸۳۳، ۱۸۳۶ ، ۲۰۹۰ ، ۲۴۳۳ ، ۲۷۸۳ ، ۲۸۲۰، ۳۰۷۷، ۳۱۸۹۔تشریح یہ باب بغیر عنوان ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک یہ فروگزاشت ہے۔روایات زیر باب کے معنوں کی رو سے اس کا عنوان مَن شَهِدَ الْفَتْح ہونا چاہیے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو غزوہ فتح میں موجود تھے۔یہ روایتیں چودہ ہیں۔عنوان باب میں لیث کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ کتاب الدعوات روایت نمبر ۶۳۵۶ میں دیکھئے۔اس میں آنحضرت صلی اللی علم کے مسح کرنے اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے ایک وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔نیز یہ روایت التاریخ الصغیر میں بھی موصولاً نقل کی گئی ہے۔لے حضرت عبد اللہ کے باپ حضرت ثعلبہ بن ضعیر بھی صحابی ہیں۔ابو صغیر کا نام عمرو بن زید بن سنان ہے جو بنو زہرہ کے حلیف تھے۔حوالہ میں مُخبر به کا نام بوجہ اختصار حذف ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۸) تیسری روایت (نمبر ۴۳۰۲) کتاب الأذان باب ۱۴۰ (روایت نمبر ۸۱۸) میں گزر چکی ہے۔چوتھی روایت (نمبر ۴۳۰۳) کے آخر میں حضرت ابو ہریرہ کے قول يَصِيحُ بِذلِكَ کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس سے مراد اعلان فتویٰ ہے۔یعنی الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَالْعَامِرِ الْحَجر مسلم ترندی اور نسائی نے بھی آپ کا یہی فتویٰ نقل کیا ہے۔کے پانچویں روایت نمبر ۴۳۰۴) کے ذکر سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے ایام میں ہوا تھا۔روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ روایت کرنے والے غزوہ فتح میں موجود تھے۔اس لئے عنوانِ باب سے متعلق فرو گزاشت کا قیاس درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ سابقہ غزوات سے متعلق ابواب میں ایک باب فضل من شَهِدَ بَدْرًا اور مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أَحْدٍ وغیرہ کے عنوان سے بھی قائم کیا گیا ہے۔آخری روایتوں سے ظاہر ہے کہ غزوہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں۔ہجرت کی ضرورت اس لئے ہوئی تھی کہ دین کے بارے میں جبر و اکراہ سے کام لیا جاتا تھا اور وہ دار الحرب تھا جہاں دینی آزادی مفقود تھی اور جان و مال محفوظ نہیں تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ وَ اَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا البلد (البلد : ۲، ۳) سن لو ! میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں (جو شاہد ہے کہ تو اس شہر میں ایسی حالت میں مقیم ہے کہ تیری جان اور مال محفوظ نہیں۔و التاريخ الصغير للبخارى، من مات مابين التسعين إلى المائة ، روایت نمبر ۱۰۶۸، جزء اول صفحه ۲۲۴) (مسلم، کتاب الرضاع، باب الولد للفراش وتوقى الشبهات) (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء أن الولد للفراش) (نسائی، کتاب الطلاق، الحاق الولد بالفراش اذا لم ينفه صاحب الفراش)