صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 152
صحیح البخاری جلد ۹ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ۔أطرافه: ۳۰۸۰، ۳۹۰۰ ۱۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی عبادت کر سکتا ہے۔البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔٤٣١٣ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۴۳۱۳ اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ ابو عاصم ( نبیل) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج سے أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُّجَاهِدٍ مروی ہے۔انہوں نے کہا: حسن بن مسلم نے مجھے بتایا کہ مجاہد بن جبیر) سے روایت ہے کہ رسول اللہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لام فتح مکہ کے دن کھڑے ہوئے اور آپ نے قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ فرمایا: اللہ نے مکہ کو جب سے اس نے زمین و آسمان مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ پیدا کیا حرمت والا قرار دیا۔اس لئے وہ اللہ کی فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللهِ إِلَى يَوْمِ حرمت سے قیامت کے دن تک حرمت والا رہے الْقِيَامَةِ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ گا۔مجھ سے پہلے کسی کے لئے (اس میں لڑنا) جائز لِأَحَدٍ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا نہیں ہوا اور نہ کسی کے لیے میرے بعد جائز ہوگا۔اور میرے لئے بھی ایک گھڑی کے لئے ہی (لڑائی) سَاعَةً مِنَ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا جائز ہوئی۔اس کا شکار نہ پر کا یا جائے اور نہ اس کے وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى کانٹے کاٹے جائیں اور نہ اس کا گھاس اُکھیڑا جائے خَلَاهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِد۔اور نہ اس کی گری پڑی چیز کا اُٹھانا جائز ہے، سوائے فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اس شخص کے جو (اس کے مالک کو ڈھونڈ رہا ہو ، یا اس إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ کا اعلان کر رہا ہو۔حضرت عباس بن عبد المطلب مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوْتِ فَسَكَتَ ثُمَّ نے یہ سن کر کہا: یارسول اللہ ! اذخر کو منتقلی فرمائیں کیونکہ وہ لوہاروں اور گھروں کے لئے ضروری ہے۔قَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَعَنِ آپ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: سوائے اذخر ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنْ کے۔اس کا کاٹنا جائز ہوگا۔اور (اسی روایت کی عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا دوسری سند میں) ابن جریج سے مروی ہے کہ أَوْ نَحْو هَذَا، رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَن (انہوں نے کہا: ) عبد الکریم ( بن مالک) نے مجھے لے فتح الباری مطبوعہ انصاریۃ میں یہاں لفظ شو تھا ہے (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔