صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 154
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵۴ ۶۴ - کتاب المغازی تیرے متعلق آزادی ہے کہ جیسا کوئی چاہے سلوک کرے۔) اور (کہتا ہوں کہ اے محمد ) تو (ایک دن) پھر اس شہر (مکہ) میں واپس آنے والا ہے۔فتح مکہ کے ساتھ (قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيّ) حق و باطل کا فیصلہ ہو گیا اور آزادی مذہب قائم ہو گئی۔کوئی کسی پر جبر نہیں کرسکتا تھا۔اگر کرے گا تو حکومت اسلامی مؤاخذہ کے لئے موجود تھی۔چودھویں روایت نمبر ۴۳۱۳) میں عزت نفس و جان و مال کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اعلان دُہرایا گیا ہے جو حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس سے آپ کی بعثت کی غرض پایہ تکمیل کو پہنچی۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی باب حجۃ الوداع ( روایت نمبر ۴۴۰۶)۔باب ٥٤: غزوة حنين } جنگ حنین کا بیان قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَيَوْمَ حُنَيْنِ إِذْ اللہ تعالیٰ کا سورۃ توبہ میں یہ فرمانا: (اللہ نے بہت أعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ سے مواقع پر تمہاری مدد کی) خصوصاً حسنین ( کی جنگ) شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ کے دن۔جب تم کو تمہاری کثرت نے عجب میں ڈال دیا تھا۔مگر وہ کثرت تم کو کچھ فائدہ نہ دے ثم ووَلَّيْتُمْ مُدبِرِينَ ثُمَّ انْزَلَ اللهُ سکی اور زمین تم پر باوجود کشادہ ہونے کے تنگ سَكِينَتَهُ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ہو گئی اور تم پیٹھ موڑ کر بھاگ نکلے۔پھر اللہ نے (التوبة: ٢٥-٢٧) اپنی سکینت اپنے رسول اور مومنوں پر اتاری اور ایسے لشکر اُتارے جن کو تم نہیں دیکھ رہے تھے اور کفار کو عذاب دیا اور کفار کی یہی جزاء ہے اور اللہ ایسی سزا کے بعد جس پر چاہتا ہے رحم کر دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔٤٣١٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۳۱۴: محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہم سے بیان بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ أَخْبَرَنَا کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل إِسْمَاعِيْلُ قَالَ رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى بن ابي خالد) نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے حضرت یہ الفاظ نسفی کی روایت کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۳۵)