صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 151 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵۱ ۶۴ - کتاب المغازی قُلْتُ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشَرِ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا بتایا کہ ابوبشر نے ہم کو خبر دی (کہتے تھے:) لابْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَا هِجْرَةَ میں نے مجاہد سے سنا۔(وہ کہتے تھے:) میں نے الْيَوْمَ أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابن عمر سے کہا تو انہوں نے جواب دیا: آج یا کہا : رسول اللہ صلی علیم کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔پھر وہی روایت بیان کی (جو اوپر گزر چکی ہے۔) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔أطرافه: ۳۸۹۹، ٤۳۰۹، ٤٣١١۔٤٣١١: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ :۴۳۱۱ اسحاق بن یزید نے ہمیں بتایا کہ يجي بن حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو عمر و اوزاعی نے أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ مجھے بتایا۔انہوں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے ، عبدہ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرِ الْمَكِّيَ نے مجاہد بن جبر مکی سے روایت کی کہ حضرت أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے : فتح کے بعد كَانَ يَقُوْلُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ۔کوئی ہجرت نہیں۔أطرافه: ۳۸۹۹، ٤۳۰۹، ٤٣١٠۔٤٣١٢: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ :۴۳۱۲ اسحاق بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي يحي بن حمزہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا:) الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ اوزاعی نے مجھے بتایا کہ عطاء بن ابی رباح قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ کو ملنے گیا۔عبید نے ان سے فَسَأَلَهَا عَن الْهِجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ ނ ہجرت کی بابت پوچھا۔حضرت عائشہ نے کہا: آج الْيَوْمَ كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ کوئی ہجرت نہیں۔مومنوں میں سے ایک اپنے بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ دین کو لے کر اللہ اور اس کے رسول صلی علیم کے لیے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ بھاگا پھرتا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں اسے ابتلاء میں فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللهُ الْإِسْلَامَ ڈال دیا جائے گا، مگر آج تو اللہ نے اسلام کو غالب فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ وَلَكِنْ کر دیا ہے اور مومن جہاں چاہے ، اپنے رب کی