صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 145 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 145

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی الرَّجُلُ فَيَقُوْلُوْنَ يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَهُ کہا: ہم ایک ایسے پانی کے پاس رہتے تھے کہ جہاں أَوْحَى إِلَيْهِ أَوْ أَوْحَى اللَّهُ بِكَذَا سے لوگوں کا گزر تھا اور ہمارے پاس سے سوار فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ وَكَأَنَّمَا گزرا کرتے تھے اور ہم ان سے پوچھا کرتے تھے : وگوں کا کیا حال ہے اور ان کی کیسے گزر رہی ہے؟ قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَقَالَ يُقَرُّ فِي صَدْرِي وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ یہ ( مدعی نبوت) شخص کیسا ہے؟ وہ کہتے تھے: وہ بِإِسْلَامِهِمِ الْفَتْحَ فَيَقُوْلُوْنَ اتْرُكُوْهُ دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو مبعوث فرمایا ہے وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ اور اس نے اس کو وحی کی ہے یا (کہا: ) اور اللہ نے صَادِقٌ۔فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ اس کو یہ یہ وحی کی ہے۔میں یہ باتیں یاد کر لیا کرتا الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب باتیں میرے وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا سینے میں گڑ جاتی ہیں اور عرب لوگ مسلمان ہونے کے لئے فتح مکہ کا انتظار کرتے تھے۔کہتے تھے: اس ( مدعی نبوت) کو اپنی قوم سے نپٹ لینے دو۔اگر غالب آگیا تو سچا نبی ہے۔جب فتح مکہ کا موقع صَلُّوْا صَلَاةَ كَذَا فِي حِيْنِ ہوا تو ہر ایک قوم مسلمان ہونے کے لئے لیکی اور وَصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِيْنِ كَذَا میرے والد اپنی قوم کے مسلمان ہونے سے پہلے فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِنْ جلدی سے مسلمان ہو گئے تھے۔جب وہ ( اپنی قوم أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا کے پاس) آئے، کہنے لگے : میں تمہارے پاس اللہ فَنَظَرُوْا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا کی قسم اس نبی کی طرف سے ہو کر آیا ہوں جو سچا نبی مِنِّي لِمَا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ ہے اور اس نبی نے یہ کہا ہے کہ تم فلاں نماز فلاں كَذَا وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو اور فَقَدَّمُوْنِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتَّ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک اذان أَوْ سَبْعَ سِنِيْنَ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ دے اور تمہارے آگے ہو کر تم کو وہ نماز پڑھائے كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي جو تم میں سے زیادہ قرآن جانتا ہو۔انہوں نے فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ أَلَا تُغَطِّوْا عَنَّا دیکھا تو مجھ سے بڑھ کر کوئی قرآن جاننے والا نہ تھا۔