صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 142
۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بار بار اپنی رحمت سے نوازتا رہے گا۔تَابَ اللہ کے معنی رجعَ اللهُ بِرَحمتِہ۔اللہ نے اس کی طرف رجوع برحمت کیا۔تواب صیغہ مبالغہ ہے جس میں رحمت کے ساتھ بار بار رجوع کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ابن اسحاق نے غزوہ فتح مکہ کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا ہے کہ آپ نے عثمان بن طلحہ حاجب کعبہ سے چابی منگوائی اور کعبہ کھلوایا اور اس کے دروازہ میں کھڑے ہو کر قریش سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ مَا تَرَوْنَ أَبِي فَاعِلٌ فِيْكُمْ ؟ قَالُوا خَيْرًا ، أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَحْ كَرِيمٍ قَالَ اذْهَبُوا فَانْتُمُ الطلقاء " اے قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم سے کیا کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: اچھا ہی کریں گے۔شریف بھائی ہو۔شریف بھائی کے بیٹے ہو۔فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو۔یہ کہہ کر آپ بیٹھ گئے۔اور ابن عائذ کی روایت میں ہے: عثمان کو چابی واپس دی اور فرمایا: خُذْهَا خَالِدَةً مُخَلَّدَةً إِنِّي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ دَفَعَهَا إِلَيْكُمْ وَلَا يَنْزِعُهَا مِنْكُف إِلَّا ظالم - چابی لو ( اور دعا کی کہ) ہمیشہ ہمیش تمہارے پاس رہے۔یہ میں نے تمہیں نہیں دی بلکہ اللہ نے دی ہے۔ظالم ہی تم سے چھینے گا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۴) روایت نمبر ۴۲۹۵، ۴۲۹۶ سے بھی یہ ہی بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ ، اس کے حرم اور مکہ کی حرمت کے بارے میں اعلان فرمایا کہ اس کا درخت نہ کاٹا جائے۔إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَيْرِ: اس میں امن ہر طرح سے ملحوظ رکھا جائے اور کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو محل امن ہو۔یہی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے شراب کی حرمت کا ذکر کیا گیا۔بَاب ٥٢ : مُقَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ فتح مکہ کے ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام ٤٢٩٧ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۴۲۹۷: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ ح۔وَحَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ قَالَ حَدَّثَنَا (ثوری) نے ہمیں بتایا۔اور قبیصہ ( بن عقبہ) نے سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ بھی ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ سفیان اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقَمْنَا (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن ابی عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسحاق سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم عَشْرًا نَقْصُرُ الصَّلَاةَ۔طرفه: ۱۰۸۱ (مکہ میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس دن ٹھہرے، نماز قصر کرتے رہے۔(السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر فتح مكة، طواف الرسول بالبيت و كلمته فيه، جزء ۲ صفحه ۴۱۲)