صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 141 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 141

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۴۱ ۶۴ - کتاب المغازی يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا وَلَا فَارًا بِدَمٍ وَلَا فَارًا بِخَرْبَةٍ۔ قَالَ دے۔ حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا: عمرو نے أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْخَرْبَةُ الْبَلِيَّةُ۔ آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ عمرو کہنے لگے : ابو شریح ! میں آپ سے بڑھ کر یہ جانتا ہوں کہ حرم کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ایسے شخص کو اطرافه ١٠٤، ١٨٣٢- جو خون کر کے بھاگ گیا ہو اور نہ اُسے جو کوئی خرابی کر کے بھاگ جائے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری نے کہا کہ اس حدیث میں جو خَرْبَۃ کا لفظ ہے اس سے مراد شرارت و نقصان ہے۔ ٤٢٩٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثْ ۴۲۹۶: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَطَاءِ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بن ابی حبیب سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ سے ، عطاء نے حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ عَامَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس سال مکہ فتح الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ۔ اطرافه ٢٢٣٦ ، ٤٦٣٣ ہوا، یہ فرماتے سنا اور آپ اس وقت مکہ ہی میں تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی فروخت حرام کی ہے۔ تا ۵۰ مکمل تا صا الله يسلم علوم تشریح یہ باب با عنوان ہے اور اس سے باب ۱۳۲۸ ۱۰ کا مضمون کل کیا گیا ہے کہ آنحضرت کلا اینیم نے نصرت و فتح کا علم بلند کرتے ہوئے فروتنی اختیار کی اور استغفار اپنا شعار بنایا۔ سورۃ النصر میں ہدایت کی گئی ہے کہ جب نصرت و فتح حاصل ہو تو بجائے عجیب و غرور کے عجز و نیاز کا سر آستانہ الہی پر جھکے اور مغفرت طلب کی جائے کہ فتح و ظفر اپنے ساتھ موجبات تکبر و غرور اور خود پسندی اور اسباب تعیش و غفلت اور کج روی لانے والے ہوتے ہیں۔ ان ان کمزوریوں کمزوریوں سے سے پا پناہ مانگی جائے ۔ انهُ كَانَ تَوَّابًا ۔ ایسا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ فتح و ظفر کے بڑے عواقب عوام سے محفوظ رکھے گا اور اپنی رحمت سے نوازے گا۔ الفاظ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سے آنحضرت صلی الیم کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے صا