صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 141
صحیح البخاری جلد ۹ الدا ۶۴ - کتاب المغازی يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيْدُ عَاصِيًا چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَرْبَةُ الْبَلِيَّةُ۔وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ۔قَالَ دے۔حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا: عمرو نے آپ کو کیا جواب دیا ؟ انہوں نے کہا کہ عمرو کہنے لگے: ابو شریح! میں آپ سے بڑھ کر یہ جانتا ہوں کہ حرم کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ایسے شخص کو جو خون کر کے بھاگ گیا ہو اور نہ اُسے جو کوئی خرابی کر کے بھاگ جائے۔ابو عبد اللہ (امام بخاری نے کہا کہ اس حدیث میں جو خربة کا لفظ اطرافه ۱۰، ۱۸۳۲ ہے اس سے مراد شرارت و نقصان ہے۔٤٢٩٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ۴۲۹۶: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيْبِ عَنْ عَطَاءِ ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بن ابی حبیب سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ عَامَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس سال مکہ فتح ہوا، یہ فرماتے سنا اور آپ اس وقت مکہ ہی میں تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ۔اطرافة: ٢٢٣٦، ٤٦٣٣۔فروخت حرام کی ہے۔تشریح یہ باب بلا عنوان ہے اور اس سے باب ۳۴۸ ۵۰ کا مضمون مکمل کیا گیا ہے کہ آنحضرت علایم تا نے نصرت وفتح کا علم بلند کرتے ہوئے فروتنی اختیار کی اور استغفار اپنا شعار بنایا۔سورۃ النصر میں ہدایت کی گئی ہے کہ جب نصرت و فتح حاصل ہو تو بجائے عجیب و غرور کے عجز و نیاز کا سر آستانہ الہی پر جھکے اور مغفرت طلب کی جائے کہ فتح و ظفر اپنے ساتھ موجبات تکبر و غرور اور خود پسندی اور اسباب تعیش و غفلت اور کج روی لانے والے ہوتے ہیں۔ان کمزوریوں سے پناہ مانگی جائے۔انہ کان توابا۔ایسا کیا گیا تو اللہ تعالی فتح و ظفر کے برے عواقب سے محفوظ رکھے گا اور اپنی رحمت سے نوازے گا۔الفاظ انه كان توابا سے آنحضرت مالی کام کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے