صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۴۰ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٩٥: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْيْل :۴۲۹۵ سعید بن شرحبیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَن الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِى ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سعید) مقبری سے، سعید نے حضرت ابو شریح عدوی سے شُرَيْحِ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ روایت کی کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا (جو اس وقت یزید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) اور وہ سَعِيْدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوْثَ إِلَى مَكَّةَ الذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَحَدِثْكَ قَوْلًا اس وقت مکہ کی طرف فوج بھیج رہا تھا۔اے امیر! قَامَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے ایک ایسی بات وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْح سَمِعَتْهُ بیان کروں جس کو رسول اللہ صلی العلیم نے فتح مکہ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ کے دوسرے دن صبح کو بیان کیا۔اس کو میرے حِيْنَ تَكَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا اور جب عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ آپ وہ بات بیان فرما رہے تھے میری دونوں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں۔آپ نے اللہ کی حمد يُحَرِّمُهَا النَّاسُ لَا يَحِلُّ لِامْرِي يُؤْمِنُ اور ثناء بیان کی۔پھر فرمایا: اللہ نے مکہ کو حرم قرار بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُسْفِكَ بِهَا دیا ہے اور لوگوں نے اس کو حرم قرار نہیں دیا۔دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا فَإِنْ أَحَدٌ کسی بھی شخص کے لئے جائز نہ ہوگا جو اللہ اور یوم تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ اس میں خون بہائے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهَا فَقُوْلُوْا لَهُ إِنَّ اللهَ اور نہ وہاں کوئی درخت کاٹے اور اگر کسی نے أَذِنَ لِرَسُوْلِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑنے کی أَذِنَ لَهُ فِيْهِ - سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ وجہ سے لڑائی کی اجازت مجھی تو تم اسے یہ کہنا کہ اللہ نے صرف اپنے رسول (صلی ایم) کو اجازت عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا دی تھی اور اس نے تمہیں اجازت نہیں دی اور بِالْأَمْس وَلْيُبَلِّعْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مجھے بھی اس کے متعلق دن کی ایک گھڑی بھر کے فَقِيْلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَاذَا قَالَ لَكَ لئے اجازت دی گئی تھی اور اب اس کی حرمت عَمْرُو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ ویسی کی ویسی پھر قائم ہوگئی ہے جیسے کہ کل تھی اور۔عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ أَذن لي فيها ہیں (عمدۃ القاری، جزء اصفحہ ۲۸۶) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔