صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 139 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 139

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۹ ۶۴ - کتاب المغازی مَا تَقُولُونَ فِي : اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ جانتے ہو۔(کہتے تھے: ) ایک دن حضرت عمرؓ نے الْفَتْحُ لى وَرَايْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي اُن بزرگ صحابہ) کو بلایا اور مجھے بھی ان کے دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان (النصر : ٣،٢) حَتَّى ساتھ بلا لیا۔انہوں نے کہا: اور میں سمجھتا تھا کہ انہوں نے مجھے اُس دن محض اس لئے بلایا تھا کہ خَتَمَ السُّوْرَةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ أُمِرْنَا أَنْ وہ میرے علم کو انہیں دکھائیں (کہ اللہ نے مجھے کیا نَحْمَدَ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ سمجھ دی ہے۔) حضرت عمر نے إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله عَلَيْنَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نَدْرِي أَوْ لَمْ وَالْفَتْحُ اول سے آخر سورۃ تک پڑھ کر يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا فَقَالَ لِي يَا ابْنَ (بزرگ) صحابہ سے) پوچھا: تم اس سے کیا سمجھتے عَبَّاسِ أَكَذَاكَ تَقُوْلُ قُلْتُ لَا قَالَ ہو؟ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں حکم دیا گیا فَمَا تَقُوْلُ قُلْتُ هُوَ أَجَلَ رَسُوْلِ اللَّهِ ہے کہ ہم اللہ کی حمد کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، جب نصرت ملے اور ہمیں فتح ہو۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ اللَّهُ لَهُ، اور اُن میں سے بعض نے کہا: ہمیں علم نہیں۔یا إذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ (النصر : ٢) اُن میں سے بعض نے کچھ بھی نہ کہا۔حضرت عمر فَتْحُ مَكَّةَ، فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ، نے مجھے کہا: ابن عباس ! کیا تم بھی یہی کہتے ہو ؟ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَ اسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ میں نے کہا: نہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا: تم کیا سمجھتے توابان ( النصر - : (٤) قَالَ عُمَرُ مَا ہو؟ میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے جو اللہ نے آپ کو بتائی۔اذا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ سے یہ مراد ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے گی اور مکہ فتح ہو گا تو یہ تیری اجل مقدر کی علامت ہے۔اس لئے تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اپنے لئے مغفرت طلب کر۔یقیناً وہ رحمت کے بعد رحمت کرنے والا ہے۔حضرت عمر نے کہا: میں بھی اس کے متعلق یہی جانتا ہوں جو تم جانتے ہو۔أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ۔اطرافه ٣٦٢٧، ٤٤٣٠ ٤٩٦٩، ٤٩٧٠ - رم