صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 137
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۷ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٩١: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۲۹۱: عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو سَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ۔ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا، مکہ ، مکہ کی بلند جانب گداء کی طرف سے داخل ہوئے۔ اطرافه ۱۵٧٧ ، ۱۵۷۸ ، ۱۵۷۹ ، ۱۵۸۰ ، ١٥٨١، ٤٢٩٠ ۔ تشريح : دُخُولُ اللَّي لا مِن أَعلى منه: بعض روایات میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیڈ کو مکہ کی بلندی کداء گھائی سے داخل ہونے کا ارشاد فرمایا اور خود گدا یعنی نشیبی گھائی سے اپنے دستہ فوج کے ساتھ داخل ہوئے۔ (روایت نمبر ۴۲۸۰) یہ بات مستند روایات کے خلاف ہے۔ امام بخاری نے یہ باب قائم کر کے اسی سقم کو ڈور کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپ گداء سے داخل ہوئے نے جو مکہ کی بلند گھائی ہے اور حضرت خالد پچھلی گھائی گدا سے داخل ہوئے۔ تھے بَاب ٥٠ : مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرار گاہ ٤٢٩٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۴۲۹۲: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ) سے، قَالَ مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ عمرو نے (عبد الرحمن ) بن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى انہوں نے کہا: ہمیں سوائے حضرت ام ہانی کے غَيْرَ أُمَ هَانِي فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ کسی نے نہیں بتایا کہ انہوں نے نبی علی ایم کو اشراق فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا ثُمَّ صَلَّى کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہی ذکر ثَمَانِي رَكَعَاتٍ قَالَتْ لَمْ أَرَهُ صَلَّى کیا ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا، اُن کے گھر میں الله آنحضرت صلی علیم نے غسل کیا۔ پھر آپ نے صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّم اشراق کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ کہتی تھیں کہ میں ( کی) الرُّكُوعَ وَالسُّجُوْدَ۔ اطرافه ۱۱۰۳، ١١٧٦۔ نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا کہ اس سے ہلکی نماز پڑھی ہو مگر آپ رکوع اور سجود پورا کرتے۔