صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 136
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ میں اپنی اونٹنی بٹھا دی۔آپ نے عثمان سے فرمایا کہ بِمِفْتَاحَ الْبَيْتِ فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللهِ بیت اللہ کی چابی لائیں (اور کعبہ کھولیں۔چنانچہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةً انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھولا۔) رسول اللہ صلی یم بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ اندر تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ اُسامہ فَمَكَثَ فِيهِ نَهَارًا طَوِيْلًا ثُمَّ خَرَجَ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ تھے۔آپ اس میں دیر تک ٹھہرے رہے۔پھر نکلے اور لوگ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ (اندر جانے کے لئے ) لیکے۔حضرت عبد اللہ بن عمر عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا پہلے تھے جو داخل ہوئے۔انہوں نے حضرت ア وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى بلال کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ان سے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيْهِ پڑھی ہے ؟ تو حضرت بلال نے اس جگہ کی طرف قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ اشارہ کر کے انہیں بتایا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی۔حضرت عبداللہ بن عمر) کہتے تھے: میں حضرت بلال سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں نماز پڑھی۔صَلَّى سَجْدَةً۔اطرافه ۳۹۷، ٤٦۸، ٠٤ - ٤٤۰۰ ،۲۹۸۸ ،۱۵۹۹ ،۱۵۹۸ ،۱۱۶۷ ،٥٠٦،٥٠٥ ،، ٤٢٩٠: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ :۴۲۹۰: ہیثم بن خارجہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ هِشَامٍ حفص بن میسرہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحَ مِنْ كَدَاءٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا، اس گداء الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ۔تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ کی طرف سے داخل ہوئے جو مکہ کی بلند سمت میں وَوُهَيْبٌ فِي كَدَاءٍ۔ہے۔(حفص بن میسرہ کی طرح) ابو اسامہ اور وہیب نے بھی گداء کی بابت یہی بیان کیا۔اطرافه: ۱۵۷۷، ۱۵۷۸، ۱۵۷۹، ۱۵۸۰، 1581، ٤٢91۔