صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 135
۱۳۵ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَى مَا أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْهِ مِنَ الْفَتْحِ الْعَظِيمِ وَتَمَكَّيهِمْ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ ظَاهِرًا عَلَى رَغْمِ أَنْفِ مَنْ سَعَى فِي إِخْرَاجِهِ مِنْهَا وَمُبَالَغَةً فِي الصَّفْحَ عَنِ الَّذِينَ آسَاءُوا وَمُقَابَلَتِهِمْ بِالْمَنِ وَالْإِحْسَانِ۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يشَاءُ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۲۰) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام اس لئے پسند فرمایا تا اپنی سابقہ کمزوری و بے بسی کا تصور کر کے اللہ تعالیٰ کے احسان پر شکر گزاری کا موقع ملے۔ایک وہ وقت تھا کہ آپ کو مکہ سے نکلنا پڑا اور اب یہ وقت ہے کہ آپ کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی۔دشمنوں کی انتہائی مخالفت و مقابلہ کے باوجود آپ مکہ میں داخل ہوئے اور جن لوگوں نے آپ کو تکلیفیں دیں اور آپ سے برا سلوک کیا تھا، ان سے درگزر کرنے اور بدی کا بدلہ عفو و احسان سے دینے کی توفیق ملی۔روایت نمبر ۴۲۸۳ کے آخر میں ہے: قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي معمر کا یہ قول کتاب الجہاد روایت نمبر ۳۰۵۸ میں گزر چکا ہے۔یہ روایت تین سندوں سے مروی ہے اور تین سندوں کے لفظی اختلاف کی طرف ضمناً توجہ دلائی گئی ہے۔معمر کی روایت اس بارے میں محمد بن ابی حفصہ کی نسبت زیادہ معتبر ہے اور وہ ثقہ ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۹) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی دفعہ مسنون حج کیا ہے۔ممکن ہے کہ اس وقت بھی آپ کے قیام کا سوال اُٹھایا گیا ہو۔اس تعلق میں کتاب الحج باب ۴۴، ۴۵ کی روایات بھی دیکھئے۔روایت نمبر ۴۲۸۶ ضمنا نقل کی گئی ہے کہ عبد اللہ بن خطل فتنہ پرداز بطور سزا قتل کیا گیا تھا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب جزاء الصيد باب ۱۸۔بَاب ٤٩: دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ کی بلند جانب سے داخل ہونا عُمَرَ رَضِيَ ٤٢٨٩ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ۴۲۸۹ اور لیث بن سعد ) نے کہا: یونس نے مجھ يُونُسُ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سے بیان کیا، (کہا) نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صل اللام فتح مکہ کے روز مکہ کی بلند جانب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ سے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے۔اپنے پیچھے اسامہ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفَا بن زید کو بیٹھایا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ بلال أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَمَعَهُ تھے۔نیز عثمان بن طلحہ تھے جو بیت اللہ کے عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى دربانوں میں سے تھے۔آکر آپ نے مسجد حرام