صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 134 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 134

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۴ ۶۴ - کتاب المغازی آپ کے بیت اللہ پہنچنے پر یہ چاروں فوجیں آپ سے آملیں اور ان کے نعرہ تکبیر سے آسمان گونج اُٹھا اور قریش کے دل دہل گئے۔انہوں نے اپنی آنکھوں سے لَتَدْخُلُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَمِنِينَ (الفتح : ۲۸) کا وعدہ الہی پورا ہوتا دیکھ لیا۔کتنا پر عظمت اور پر شوکت یہ منظر تھا۔یہ آیت سورۃ الفتح کی آیات بینات میں سے ہے اور روایت نمبر ۴۲۸۱ میں ہے کہ فتح مکہ کے روز اونٹنی پر سوار آپ یہی سورۃ خوش الحانی سے تلاوت کرتے لئے گئے۔مغازی کی روایات میں بھی یہی ذکر ہے کہ آپ اونٹنی پر سوار بار بار سجدہ کرتے تھے۔گویا ارشادِ باری تعالیٰ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا (البقرۃ: ۵۹) آپ کے ذہن میں مستحضر تھا اور حکم کی تعمیل ہو رہی تھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی سجدہ کناں ہی داخل ہوئے۔ان کا شعار کامل اطاعت تھا اور اگر بنو ہذیل و احباش حضرت خالد بن ولید سے مزاحم نہ ہوتے تو ایک قطرہ خون بھی نہ گرتا۔بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ جب تم کسی بستی میں داخل ہو تو حظہ کا شعار اختیار کر کے اور اپنی کمزوریوں کے طالب مغفرت ہوتے ہوئے داخل ہونا۔یہی ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مجاہدین فتح مکہ کو تھا اور انہوں نے تاخذ امکان آپ کا یہ ارشاد مد نظر رکھا۔حظة مصدر ہے بمعنی نظر انداز کرنا۔یعنی دشمن کے ظلموں کو نظر انداز کیا جائے اور انتقامی جذبے کا مظاہرہ نہ ہو۔عہد نامہ عقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا اور اس نے دشمنوں سے بُری طرح انتقام لیا۔پر قرآنِ مجید میں فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِى قِيلَ لَهُمُ (البقرة: (۲۰) سے ان کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے۔لیکن اس کے برعکس صحابہ کرام کا نمونہ اطاعت شعاری ہے جسے اسلامی تاریخ نے محفوظ رکھا ہے۔روایت نمبر ۴۲۸۰ کے الفاظ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُ الْكَعْبَةُ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کو قریش کے ظلم یاد تھے اور وہ انہیں کیفر کردار کو پہنچانا چاہتے تھے۔دس ہزار مجاہدین کی آتش انتقام قریش کو پل بھر میں راکھ کر سکتی تھی۔مگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تزکیہ یافتہ قدوسی گروہ تھا اور اس نے اپنے آقا کی خواہش اپنے جذبات انتقام پر مقدم رکھی کہ بیت اللہ کی عظمت ملحوظ رہے اور انسانی جان کی عزت کا پاس رکھا جائے۔روایت نمبر ۴۲۸۲ تا ۴۲۸۵ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی گوارا نہ فرمایا کہ اپنے جدی گھر میں قیام فرمائیں تا صحابہ کرام کو فتح مکہ سے اپنی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا خیال نہ آئے۔لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِر سے آپ نے یہ خیال صحابہ کے ذہنوں سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔دنیاوی حکومتوں کی فتوحات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتوحات سے کیا نسبت رکھتی ہیں۔آپ نے فتح مکہ کے بعد وہاں انہیں دن قیام فرمایا اور اس دوران پہاڑی کی ڈھلوان اپنی فرودگاہ کے لئے پسند کی۔جہاں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کا مقاطعہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔خیف کے معنی ہیں پہاڑی کی ڈھلوان۔امام ابن حجر نے آپ کے انتخاب فرودگاہ سے متعلق لکھا ہے: الما اختارَ النَّبِيُّ ﷺ النُزُولَ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِع لِيَتَذَكَّرَ مَا كَانُوْا فِيْهِ فَيَشْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى ا (کتاب مقدس، استثناء، باب ۲: ۳۴ گنتی باب ۲۱: ۳۰،۲۹)