صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 133
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی ابو سفیان پکارا کہ جو اپنے گھر کا دروازہ بند رکھے گا وہ امن میں ہو گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلواریں چمکتی دیکھیں تو فرمایا: یہ کیا؟ میں نے تو لڑنے سے منع کیا تھا۔ صحابہ نے کہا: ایسا خیال ہے کہ خالد سے لڑائی ہو گئی ہے اور اس وجہ سے انہیں مجبوراً لڑنا پڑا ہے اور جب سکون ہوا تو آپؐ نے حضرت خالد سے دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کی کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کی ابتداء کی ہے اور ہم پر ہتھیار چلائے ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ روکا اور حتی الوسع کوشش کی کہ لڑائی نہ ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا جواب سن کر فرمایا: قَضَاءُ اللهِ خَيْرٌ الہی فیصلہ ہی اچھا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۳ تا ۱۵) ابن اسحاق نے بھی خندمہ کی اس لڑائی کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت خالد کی فوج میں سے حضرت خبیش بن اشعر، حضرت گرز فہری اور حضرت مسلمہ بن میلاء جہنی شہید ہوئے اور مشرکین کے بارہ تیرہ آدمی مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی۔ سے روایت نمبر ۴۲۸۰ میں حضرت خبیش اور حضرت کرز بن جابر فہری کی شہادت کا ذکر ہے۔ حبیش لقب ہے اور ان کا نام حضرت خالد بن سعد بن منقذ بن ربیعہ خزاعی ہے۔ حضرت گرز بن جابر فہری وہ شخص ہیں جنہوں نے کسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ریوڑ پر چھاپہ مارا تھا۔ پھر مسلمان ہو گئے تھے۔ ابن سعد نے بھی مذکورہ بالا لڑائی کا ذکر کیا اور بتایا ہے کہ ایک روایت میں چوبیس افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ باقی دستے بغیر جنگ و خون ریزی مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ ہے (فتح الباری ؟ ح الباری جزء ۸ صفحه ۱۴، ۱۵) حضرت خالد بن ولید کا راستہ ایسی طرف متعین کیا گیا تھا جہاں ان قبائل کی آبادی تھی جنہوں نے خزاعہ پر شب خون مارا، اُن کے آدمیوں کو ہلاک کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین خالد کے ہاتھوں سے مظلوموں کا انتقام لیا۔ حضرت خالد مسفلة ( نشیبی جہت سے داخل ہوئے جو جنوبی سمت میں ہے۔ جہاں سے یمن کو کاروانی راستہ جاتا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ اور حضرت علیؓ کے دستہ فوج کا راستہ گداء کی طرف سے تھا جو بالائی راستہ ہے اور مغربی سمت سے بڑے راستے میں مل جاتا ہے۔ حضرت زبیر کا دستہ فوج معلاة یا گداء والے راستہ سے داخل ہوا۔ گداء وہ مقام ہے، جہاں سے کاروانی راستہ جدہ کو جاتا ہے اور بعض کے نزدیک خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شمال الظہران اور مدینہ سے راستہ آتا ہے، یعنی بڑے ، ہے، یعنی بڑے راستے سے دا داخل ہوئے جس میں مسجد، طائف اور منی والا راستہ ملتا ہے۔ ادھر گھائی بلند ہے۔ حضرت خالد کا راستہ اُس حصہ آبادی سے گزرتا تھا جسے مسفلة کہتے ہیں اور جدھر جبل خندمہ اور ابو قبیس پہاڑ ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت خالد کے دستے کو مسفلة کی طرف آتے دیکھ کر قبائلیوں نے خیال کیا ہو کہ آپ زیریں راہ سے داخل ہوں گے اور مزاحمت کی غرض سے مسفلة کی طرف جمع ہو گئے ہوں۔ میں معلاق سے جدھر مرا مر ا۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر فتح مكة، تعرض صفوان في نفر معه، جزء ۲ صفحه ۴۰۸،۴۰۷) ( الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ عام الفتح، جزء ۲ صفحه ۱۳۶)