صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۹ A ۶۴ - کتاب المغازی کہہ کر وہ اس کے پیچھے ہو گیا۔ جب وہ ٹھہر جاتا، وہ أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ جیسا کہ فلاں نے۔ (یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ علیہ وسلم نے فرمایا: مگر باوجود اس کے وہ دوزخی فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ قَالَ ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ حضرت سہل کہتے تھے: یہ فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ قَالَ فَجُرِحَ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ جلدی چلتا تو وہ بھی جلدی الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ چلتا۔ کہتے تھے کہ آخر وہ شخص ( قزمان) سخت زخمی الْمَوْتَ فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاکر جلد مر جانے کے لئے بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ اپنی تلوار زمین پر ٹیکی اور اس کی آئی (یعنی نوک) فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى اپنے سینے کے درمیان رکھ کر تلوار پر جھکا اور اس رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر بوجھ ڈالا اور اس طرح اپنے آپ کو مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر نگرانی کرنے والا) وہ شخص رسول اللہ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللَّهِ قَالَ وَمَا صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس گیا اور کہا میں شہادت ذَاكَ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ پوچھا: کیا بات ہے؟ کہنے لگا: وہ شخص جس کا ابھی ذَلِكَ فَقُلْتُ أَنَا لَكُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ آپؐ نے ذکر کیا تھا کہ وہ دوزخی ہے اور لوگوں پر فِي طَلَبِهِ ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا یہ بات شاق گزری تھی، میں نے کہا: میں تمہارے فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ لئے اس کی خبر لاتا ہوں۔ یہ کہہ کر میں اس کے نے دیکھا کہ آخر وہ سخت زخمی سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ پیچھے چل دیا۔ میں نے ) ہوا اور جلد مرنے کے لئے اس نے اپنی تلوار کا ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ دستہ زمین پر ٹیکا اور اس کی نوک اپنے سینے کے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ درمیان رکھی پھر اس پر جھک کر بوجھ ڈالا اور اس عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ طرح اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا۔ نبی صلی الہ ہم نے الله سلم علوم أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ اس وقت فرمایا: کبھی آدمی جنتیوں کے کام کرتا ہوا