صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 132 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 132

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی کیا کہا ہے؟ دریافت کرنے پر ابو سفیان نے بتایا کہ وہ کہتے تھے : آج گھمسان کی جنگ ہو گی اور مکہ کی تاخت و تاراج جائز کی جائے گی۔آپ نے فرمایا: سعد نے درست نہیں کہا بلکہ آج تو مکہ کی عظمت قائم ہوگی۔مغازی میں اموی کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے سامنے سے گزرنے لگے تو اس نے پوچھا کہ کیا اپنی قوم کو قتل کرانے کا منشاء ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ابو سفیان نے حضرت سعد بن عبادہ کے قول کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔آپ نے فرمایا: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَۃ اور حضرت سعد سے احتیاطاً پرچم لے کر اُن کے بیٹے حضرت قیس کو دیا اور موسیٰ بن عقبہ کی مغازی میں ہے کہ حضرت زبیر بن عوام کو علم دیا گیا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب آپ کو حضرت سعد بن عبادہ کے فقرہ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَة کا علم ہوا تو حضرت علی سے فرمایا کہ جا کر سعد سے پر چم لے لیا جائے۔یہ روایت ابن اسحاق کی ہے۔- امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ تین اقوال ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔حضرت علیؓ کے ذریعہ سے پرچم حضرت سعد سے لیا گیا اور پھر حضرت قیس بن سعد کو دیا گیا اور آخر حضرت زبیر کے حوالہ کیا گیا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو مقدمتہ الجیش کا سالار مقرر کر کے فرمایا کہ وہ مکہ کی بلندی گداء گھائی سے داخل ہوں اور خود گدا گھائی سے اپنے دستہ فوج کے ساتھ داخل ہوئے۔یہ حصہ روایت نہ صرف ابن اسحاق ہی کی روایت کے خلاف ہے بلکہ باب ۴۹ کی مستند روایات نمبر ۴۲۹۰، ۴۲۹۱ کے بھی خلاف ہے۔جن میں صراحت ہے کہ آپ گذاء سے داخل ہوئے تھے جو مکہ کی بلند گھائی ہے اور حضرت خالد بجلی گھائی کدا سے۔روایت نمبر ۴۲۸۰ میں یہی ستم ہے جس کی وجہ سے الگ عنوان باب ( نمبر ۴۹) قائم کر کے اس کی اصلاح کی گئی ہے۔موسیٰ بن عقبہ کی روایت اس بارہ میں زیادہ واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت زبیر بن عوام کو علم دیا اور مہاجرین کی پیاده و سوار سپاہ کے ساتھ انہیں بھیج کر ہدایت فرمائی کہ مکہ کی بلند گھائی گداء سے جاکر جون میں علم نصب کیا جائے اور وہیں ٹھہرے رہیں، تاوقتیکہ آپ وہاں پہنچ جائیں اور حضرت خالد بن ولید کو قضاعہ وسلیم وغیرہ کا سالار مقرر کر کے انہیں ہدایت کی کہ وہ مکہ کی نچلی گھائی سدا سے داخل ہوں اور اپنا پر چم آبادی کے قریب نصب کریں اور حضرت سعد بن عبادہ کو انصار کے دستہ فوج کا سالار مقرر کر کے انہیں آگے روانہ کیا اور سب کو ہدایت فرمائی کہ کسی سے تعرض نہ ہو۔صرف لڑنے والوں ہی کا مقابلہ کیا جائے۔ان کے سوا دوسروں پر دست درازی نہ ہونے پائے۔موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے کہ جب حضرت خالد بن ولید گدا سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے لگے تو جبل خندمہ کے دامن میں بنو بکر ، بنو حارث بن عبد مناة اور ہذیل واحا بیش کے لوگ اکٹھے ہو کر ان کے سد راہ ہوئے اور ان سے مقابلہ ہوا۔بنو بکر کے ہیں اور ہذیل کے تین چار آدمی لڑائی میں مارے گئے اور حزورہ تک مقابلہ کر کے مسجد کے دروازے پر حضرت خالد پہنچ گئے۔قریش میں سے بعض گھروں میں اور بعض پہاڑوں پر چلے گئے۔ل (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر فتح مكة، تَخَوفُ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى قُرَيْنِ مِنْ سَعْدٍ ، جزء ۲ صفحه ۴۰۶)