صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 131
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳۱ ۶۴ - کتاب المغازی جون کی پہاڑی عام قبرستان مکہ کے قریب معروف مقام ہے۔ مکہ مکرمہ ایک وادی میں واقع ہے۔ اس کے چاروں اطراف میں بلند و دشوار گزار پہاڑیاں ہیں، بلندی میں ایک دوسرے سے کم و بیش۔ ان میں سے ایک پہاڑی کا نام گداء ہے جو شمال کی جانب ہے اور دوسری کا نام گدا جو شہر کے جنوب میں واقع ہے۔ ان پہاڑیوں کی بلندی سے وادی مکہ کے نشیب میں اُترنا پڑتا ہے۔ شہر میں داخل ہونے کے لئے صرف ایک بڑا راستہ شمالاً جنوباً شہر کے وسط سے گزرتا ہے اور دو ذیلی راستے اس سے آکر ملتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نے ان پہاڑیوں کے دامن میں مر الظہران کے مقام پر رات کو قیام فرمایا اور دس ہزار مجاہدین قبیلہ وار وسیع میدان میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر دور تک خیمہ زن تھے۔ آنحضرت صلی علیم نے راستوں کی ناکہ بندی کا پورا اہتمام فرمایا تھا اور مکہ کا سفر مختلف سمتیں تبدیل کرتے ہوئے پیچیدہ راستوں سے طے کیا۔ جس سے سمجھا گیا کہ قبیلہ ہوازن کا قصد ہے یا بنو ثقیف کی تادیب مقصود ہے۔ لیکن جب آپ مر الظہران میں پہنچے اور چولہوں کی آگیں روشن ہوئیں تو اتنی بڑی فوج کی خبر پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔ بھنک پاکر ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء صورت حال معلوم کرنے کی غرض سے رات کو نکلے۔ حضرت عباس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر پہلے نکل چکے تھے۔ آگیں دیکھ کر بدیل بن ورقاء نے کہا کہ یہ چولہے بنو خزاعہ کے معلوم ہوتے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا: ان کی تعداد تو تھوڑی ہے۔ حضرت عباس کہنے لگے کہ یہ آئیں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر والوں کی ہیں۔ کے اتنے میں آ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرے داروں نے انہیں گھیر کر قید کر لیا۔ اس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۴۲۸۰ میں ہے۔ کتب مغازی میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عباس نے انہیں پناہ دی۔ ابو سفیان اپنی موت دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کو واپس مکہ جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ نظر بند رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ اگلے روز نمازِ فجر کے بعد آپ نے اپنے لشکر کو ترتیب دی۔ مقدمہ الجیش میں قبائل بنو غفار ، جہینہ، سعد بن ہزیم، سلیم واسلم تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے سر دارو پرچم کے ساتھ تھا۔ مؤخر الجیش میں انصار بقیادت حضرت سعد بن عبادہ اور آخر میں مہاجرین جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ کا علم حضرت زبیر بن عوام بلند کئے ہوئے تھے۔ حضرت عباس نے ابو سفیان کو اپنی حفاظت میں پہاڑی درے کے آخری کنارے پر نظر بند رکھا اور جب لشکر قبیلہ دار گزرنے لگا تو حضرت عباس نے ہر دستہ فوج سے متعلق بتایا، فلاں فلاں قبیلہ کی فوج ہے۔ موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر قبیلہ کا سامانِ حرب اس کے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیاروں کا مظاہرہ کرے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۱۱) اس لاؤ لشکر اور مظاہرے سے آپ کا یہ مقصد تھا کہ دشمن مرعوب ہو اور بغیر خونریزی مکہ فتح ہو جائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ سے کہا: آپ کو علم ہے علم ہے کہ سعد بن عبادہؓ نے ا (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر فتح مكة ، قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِي سُفْيَانَ ، جزء ۲ ۲ صفحه (۴۰۲)